1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ایشز ہاتھ سے گئی : پونٹنگ، اب کیا ہو گا؟

ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ میں انگلش ٹیم نے آسٹریلیا کو ایک اننگز اور 157 رنز سے شکست دے کر ایشز کا دفاع کر لیا ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی پانچ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو دو ایک کی برتری بھی حاصل ہو گئی ہے۔

default

آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ

میلبورن ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد ایشز کرکٹ سیریز کی تاریخ میں رکی پونٹنگ واحد کپتان ہیں جو بار یہ تیسری سیریز ہارے ہیں۔ ادھرپونٹنگ کی خراب پرفارمنس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اگر اب پونٹنگ اس سیریز کا پانچواں اور آخری میچ جیت بھی جاتے ہیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ سیریز دو دو سے برابر ہونے کے باوجود بھی انگلش ٹیم کامیاب قرار پائے گی کیونکہ وہ ایشز کا دفاع کر رہی ہے۔

میلبورن کے تاریخی میدان پر پونٹنگ کی بدقسمتی کا آغاز اس وقت شروع ہوا جب وہ گرین ٹاپ پچ پر ٹاس ہار گئے۔ دوسری بدقسمتی کہ اینڈریو سٹراؤس نے بیٹنگ کی بجائے بولنگ کو ترجیح دی۔ تیسرے بدقسمتی اسی میچ میں واحد ان فارم بیٹسمین مائیک ہسی دونوں اننگز میں سکور کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے نائب کپتان مائیکل کلارک تو منگنی ٹوٹنے کے بعد سے پوری فارم میں موجود نہیں ہیں۔

Flash-Galerie Ricky Ponting

رکی پونٹنگ واحد آسٹریلوی کپتان ہیں جو تیسری بار ایشز سیریز ہارے ہیں

میچ کے چوتھے دن آسٹریلیا کے باقی ماندہ چار کھلاڑی اپنی ٹیم کو اننگز کی شکست سے نہ بچا سکے۔ یہ کھلاڑی میدان تقریباً نوے منٹ تک مقابلہ کرتے رہے۔ میچل جانسن دوسرے اوور میں ٹریملیٹ کی گیند پر بولڈ آؤٹ ہوئے۔ وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن اور تیز بولر پیٹر سڈل نے آٹھویں وکٹ پر انگریز بولروں کا جم کر مقابلہ کیا۔ دونوں نے انگریز کپتان سٹراؤس کے لئے پریشانی پیدا ضرور کی۔

ہیڈن اور سڈل کے درمیان 86 رنز کی شراکت رہی۔ سڈل 40 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ایک آسٹریلوی کھلاڑی ہیرس زخمی ہونے کے باعث کھیل نہیں سکے۔ اس طرح انگلینڈ کی ٹیم نے میلبورن ٹیسٹ کو ایک اننگز اور 157 رنز سے جیت کر ایشز ٹرافی کا شاندار دفاع کیا۔ سن 1956ء کے بعد یہ انگریز ٹیم کی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پر رنز کے فرق سے سب سے بڑی جیت ہے۔

آسٹریلوی ٹیم کے خراب کھیل کی وجہ سے سلیکٹرز بھی پریشان ہیں کہ اب کیا کیا جائے۔ میلبورن میں ایک بلے باز کم کھلانے کا احساس پونٹنگ کو میچ کے دوران ہو گیا ہو گا۔ سٹیون اسمتھ کو بطور آل راؤنڈر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن ان کی کارکردگی قطعی طور پر غیر متاثرکن تھی۔ وہ کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے اور بیٹنگ میں دونوں اننگز میں مجموعی طور پر صرف 44 اسکور ہی بنا سکے۔

انگلش ٹیم کی پہلی اننگز کے دوران آسٹریلوی بولروں نے تقریباً 159 اوورز پھینکے تھے اور اسمتھ صرف 18 اوورز پھینک سکے اور ان میں 70 سے زائد رنز دئے۔ پونٹنگ کو مبصرین اور کھلاڑیوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ ان کی ٹیم ان کی پرزور حمایتی ہے۔ پونٹنگ کی انگلی میں فریکچر بھی ہے۔

Matt Prior Andrew Strauss

انگلش ٹیم خوشی مناتے ہوئے

وہ بدھ کو ایکسرے کے لئے بھی گئے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سڈنی ٹیسٹ سے دستبرداری کا اعلان کردیں۔ پونٹنگ اب تک کھیلے گئے کسی بھی میچ میں ’کپٹن اننگز‘ کھیلنے سے قاصر رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ سیریز میں اب تک صرف 113بنائے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال ان کے نائب کپتان کلارک کا ہے۔ پچھلے میچوں میں مائیک ہسی ٹیم کو بچاتے رہے اور میلبورن میں وہ جلد آؤٹ ہوئے تو ٹیم بھی جلد فارغ ہوتی گئی۔

سلیکٹرز کے پینل کے چیئر مین اینڈریو ہلڈچ بھی ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے پریشان ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آسٹریلیا میں سردست بلےبازی اور بولنگ میں کوئی قدآور یا زور آور نوجوان نام موجود نہیں ہے۔ اس سیریز کا پانچواں اور آخری میچ تین جنوری کو سڈنی میں شروع ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM