1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ایشز ٹیسٹ سیریز: دوسرے میچ میں انگلش ٹیم کی بہتر پوزیشن

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ کی روایتی ایشز ٹیسٹ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بظاہر آسٹریلوی ٹیم میچ بچانے کی جدو جہد میں مصروف ہے۔ اب ساری ذمہ داری مرد بحران مائیک ہسی پر ہے۔

default

کیون پیٹر سن (دائیں) فائل فوٹو

جوں جوں ایشز سیریز آگے بڑھ رہی ہے، توں توں ناقدین اور مبصرین کی رائے کو استحکام مل رہا ہے کہ موجودہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم جارحانہ سوچ سے عاری ہے اور ٹیم کے اندر اجتماعی طور پر فائٹنگ سپرٹ کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ برزبین شہر کے گابا میدان کی طرح ایڈیلیڈ میں جاری دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی انگریز بلے باز مکمل طور پر میزبان ٹیم کے بالروں پر حاوی رہے۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں ناٹ آؤٹ رہنے والے اوپننگ بیٹسمین الیسٹیئر کُک نے اپنی اننگ وہیں سے شروع کی، جہاں پہلے ٹیسٹ میچ میں چھوڑی تھی۔ دوسرے میچ میں بھی وہ سینچری بنا کر 148 کے سکور پر آؤٹ ہوئے۔ اس طرح اب تک دو میچوں کی تین اننگز میں ان کا کل سکور 450 ہے اور اوسط سوا دو سو سکور فی اننگ ہے۔

ایڈیلیڈ اوول پر کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران جنوبی افریقی نژاد بلے باز کیون پیٹر سن نے خاصی دیر بعد شاندار ڈبل سینچری سکور کی۔

Andrew Strauss

انگلش ٹیم کے کپتان اینڈریو سٹراتس

وہ 227 کے سکور پر آؤٹ ہوئے۔ یہ سکور ان کے کیریئر کا بہترین اسکور بھی ہے۔ انگلش ٹیم کے کپتان اینڈریو سٹراؤس نے پانچ کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے پر اُس وقت اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جب جب سکور 620 تھا۔ انگریز ٹیم کو مجموعی طور پر پہلی اننگز میں 375 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

اس بڑی سبقت کے دباؤ میں آسٹریلوی ٹیم کے افتتاحی بلے بازوں نے بہتر شراکت قائم کی اور چوراسی کے اسکور پر سائمن کیٹچ تینتالیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کپتان رکی پونٹنگ زیادہ دیر وکٹ پر جم نہیں سکے اور وہ نو رنز بنا کر پیویلین لوٹ گئے۔ ایک سو چونتیس کے اسکور پر شین واٹسن کی وکٹ گری۔ بعد میں مائیکل کلارک اور مائیک ہسی کے درمیان ٹیم کو سنبھالنے کی 104 رنز کی شراکت قائم ہوئی تو کھیل ختم ہونے سے چند منٹ قبل نائب کپتان مائیکل کلارک 80 کےسکور پر نان ریگولر بالر کیون پیٹر سن کی اسپن باولنگ کا شکار بن گئے۔ یہ انگریز ٹیم کو کھیل ختم ہونے سے قبل بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس مقام پر انگلش ٹیم کو ٹیسٹ میچ جیتنے کا احساس ہونے لگا۔

ایڈیلیڈ ٹیسٹ میچ کا آخری دن اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ انگریز ٹیم نے میچ جیتنے کی جستجو کرنی ہے اور آسٹریلوی ٹیم نے میچ بچانے کی۔ ایک جدوجہد سے بھرا دن شائقین کا منتظر ہے۔ مبصرین کے خیال میں سردست انگلش ٹیم کا پلڑا بھاری ہے۔ اس کو آخری دن صرف چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا ہے اور میزبان ٹیم کے تمام اہم بلے باز آؤٹ ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر اگر مارکوس نارتھ عمدہ اننگ کھیل سکے تو وہ اگلا میچ کھیلیں گے، وگرنہ وہ بھی مچل جانسن کی طرح ٹیم سے باہر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس