1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ایشز میں انگلینڈ پر امید، کینگروز کے حوصلے بلند

ایشز سیریز اس وقت ایک ایک سے برابر ہے۔ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو ایک مرتبہ پھر برتری حاصل کرنے کے لئے اتوار سے شروع ہونے والے چوتھے ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ لیکن دوسری جانب کینگروز بھی بہت پر امید ہیں۔

default

ایشز سیریز کا چوتھا ٹیسٹ میچ اتوار 26 دسمبر سے میلبورن میں شروع ہو رہا ہے۔ اس میچ میں جہاں انگلینڈ سیریز میں اپنا پلہ بھاری کرنے کا دعوی کر رہا ہے وہیں تیسرے ٹیسٹ میچ میں 267 رنز کی جیت سے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔ انگلینڈ کے کپتان اینڈریو سٹراؤس کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی سیریز کے آخری دو میچوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے۔ سٹراؤس کے بقول ابتدائی میچز نے سیریز میں جان ڈالی اور اب آخری میچز میں جیت کے لئے بھرپور کوشش کی جائے گی۔

انگلینڈ کی ٹیم 1986-87 ء کی تاریخ دہرانے کے لئے بے چین ہے۔ سٹراؤس نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم کو آخری دو ٹیسٹوں میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئےکار لانی ہوں گی۔ ان کے بقول ان کی ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی اچھی فارم میں ہیں۔

Andrew Strauss

اب ایشز کو گھر لے جانے کا وقت آ گیا ہے، اینڈریو سٹراؤس

الیسٹراب تک پانچ اننگز میں 495 رنز سکور کر چکے ہیں، کپتان سٹراؤس اور جوناتھن برسبن میں سینچریاں سکور کر چکے ہیں۔ اینڈریو سٹراؤس نے چوتھے ٹیسٹ میں اپنی حکمت عملی کے حوالے سے بتایا کہ این بیل نمبر چھ پر ہی بیٹنگ کریں گے کیونکہ وہ اب تک تین نصف سینچریاں سکور کر چکے ہیں۔

میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پرکھیلے گئے ایشز سیریز کے گزشتہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں سے آسٹریلیا نے چار میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آسٹریلوی ٹیم کے شائقین کو یقین ہےکہ ان کی ٹیم چھٹا ٹیسٹ بھی اپنے نام کرے گی۔ امید ہےکہ اتوار کو ٹیسٹ کے پہلے روز تقریباً 91 ہزار تماشائی میچ دیکھنے آئیں گے۔

انگلینڈ اورآسٹریلیا کرکٹ کے دو روایتی حریف ہیں۔ اُن کے درمیان ہر دوسال بعد ٹیسٹ میچوں کی ایشز سیریز کھیلی جاتی ہے۔ باری باری دونوں ملک اِس سیریز کے میزبان بنتے ہیں۔ ایشزسیریز کا باقائدہ آغاز 83۔1882 کی تین میچوں کی سیریز سے آسٹریلیا میں ہوا تھا۔ اس سیریز میں انگلینڈ نے یہ ٹرافی ایک کے مقابلے میں دو ٹیسٹ میچوں سے جیت کر پہلی بار ایشز کا فاتح ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس