1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’ایشز سیریز بچانے کے لئے شین وارن کی ضرورت ‘

ایشز سیریز کے دوسرے میچ میں انگلینڈ سے عبرتناک شکست کے بعد آسٹریلیا پر تنقید کے دروازے کھل گئے ہیں جبکہ کچھ حلقے مایہ ناز لیگ سپنر شین وارن کی واپسی کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں۔

default

شین وارن

کھیلوں سے متعلق لکھنے والے سینئر آسٹریلوی صحافی پیٹر فٹزسیمنس کا کہنا ہے کہ وارن بلاشبہ میچ ونر ہے اور اس کی واپسی سے شکست خوردہ آسٹریلوی دستے میں نئی جان پڑ جائے گی۔ سڈنی کے ایک اخبار مارننگ ہیرالڈ میں لکھے گئے کالم میں سیمنس نے لکھا ہے، ’ انگلینڈ 1986،87ء کے بعد کی پہلی اہم کامیابی کی جانب گامزن ہے، ایسے میں آپ کس سے مدد طلب کرسکتے ہیں، شین وارن سے کیوں نہیں۔‘ اس صحافی نے وارن کو کپتانی دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ایک اور روزنامے دی ٹیلی گراف کے تحت منعقدہ جائزے میں 70 فیصد رائے دہندگان نے وارن کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ شین وارن نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے

Cricket Spieler Ricky Ponting

آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ اس وقت شدید تنقیدکی زد میں ہیں

کہ وہ اپنی اتنی تعریف سن کر بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’ آسٹریلیا کو تمام دستیاب امکانات کو آزمانا چاہیے۔‘ اس ضمن میں انہوں نے ایک بائیں بازو سے سپن باؤلنگ کرنے والے نوجوان کرکٹر مائیکل بیر کا نام تجویز کیا ہے۔

طویل عرصے تک خبروں کی سرخیاں بٹورنے والے وارن نے انگلینڈ کے خلاف گزشتہ ہوم سیریز میں پانچ صفر کی جیت کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وارن انڈین پریمیئر لیگ میں راجھستان کی ٹیم سے وابستہ رہے ہیں اور انہوں نے ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں کے ساتھ بھی معاہدے کر رکھے ہیں۔ مبصرین کے مطابق شین وارن کا شمار بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کے عیار ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے تاہم انہوں نے کبھی اپنی قومی ٹیم کی کپتانی نہیں کی۔

حالیہ ایشز سیریز میں دو مقابلوں کے بعد انگلینڈ کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ برسبین میں کھیلا گیا پہلا میچ بے نتیجہ رہا جبکہ ایڈیلیڈ میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ انگلینڈ نے ایک اننگز اور 71 رنز سے جیتا۔ پانچ ٹیسٹ میچوں کی ایشز سیریز کا تیسرا میچ سولہ دسمبر سے پرتھ میں شروع ہو گا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM