1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایس کے ایس آندھرا پردیش حکومت کے فیصلے سے ناخوش

بھارت میں خواتین کو چھوٹے قرضے دینے والے سب سے بڑے ادارے سوائم کریشی سنگم SKS مائیکرو فنانس نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں سے متعلق نئی قانون سازی، منافع پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

default

ایس کے ایس نامی کمپنی بھارت میں خواتین کو چھوٹے پیمانے پر قرضے فراہم کرتی ہے

آندھرا پردیش کی ریاست نے حال ہی میں ایک قانون منظور کیا ہے، جس کے تحت قرض دینے والے اداروں سے وصولی کے طریقہ ء کار میں اصلاحات کرنے کو کہا گیا ہے۔ بھارت میں خودکشی کے کئی واقعات کو قرض وصولی کے کڑے طریقوں اور سود کی اونچی شرح سے جوڑا جارہا ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں درج ، ایس کے ایس کمپنی چھوٹے قرضے فراہم کرنے والا بھارت کا واحد ادارہ ہے۔ ستمبر میں رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر اس ادارے نے اپنے منافع میں 116 فیصد کی کمی رپورٹ کی ہے۔ ستمبر کے اختتام پر ایس کے ایس کا منافع 805 ملین روپے یعنی لگ بھگ 18 ملین ڈالر رہا۔ اس ادارے کا صدر دفتر حیدر آباد میں ہے اور یہ بھارت بھر کے ایک لاکھ دیہات میں اپنی کوئی 80 لاکھ خواتین ممبران کو قرض اور انشورنس جیسی خدمات فراہم کرتا ہے۔

BdT- Börse Mumbai

ایس کے ایس کے شیئر کی قیمت میں گراوٹ دیکھی گئی

ایس کے ایس کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کے فیصلے کے بعد گزشتہ ایک ماہ میں ان کی وصولی پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں ایس کے ایس کے شیئر زکی قیمت میں 158 روپے 55 پیسے کی گراوٹ دیکھی گئی جس کے بعد اس کی قیمت 640 روپے 7 پیسے ہوگئی ہے۔

ممبئی کی سٹاک مارکیٹ میں ایس کے ایس کے بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر نئے قانون کو اطمینان بخش انداز میں نہیں بدلا گیا تو اس ادارے کے ریونیو پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ادارے کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ منافع پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

ایس کے ایس کی27 فیصد سرگرمیاں چھوٹے قرضوں کے لین دین کا گڑھ تصور کی جانے والی ریاست آندھرا پردیش میں ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں خودکشی کرنے والے 17 افراد ایس کے ایس کے قرض دار تھے۔ سوائم کریشی سنگم البتہ یہ ماننے سے انکاری ہے کہ ان کا وصولی کا عملہ ان خودکشیوں کا ذمہ دار ہے۔ بھارت میں مائیکرو فائنانسنگ کے کاروبار کا حجم چھ تا سات ارب ڈالر کے برابر ہے۔

آندھرا پردیش کی ریاست نے جو قانون منظور کیا ہے کہ اس کے تحت مہینے میں ایک بار وصولی کی جاسکے گی ہر ہفتے نہیں۔ بینکاری کے شعبے سے وابستہ افراد کو اب یہ خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ اگر اس قانون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرض داروں نے ادائیگیوں سے منہ پھیرا تو اس شعبے کو مجموعی طور پر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس