’ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں میں ریاستی ادارے ملوث ہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں میں ریاستی ادارے ملوث ہیں‘

اسلام آباد پولیس نے پاکستانی صحافی طحہٰ صدیقی کے اغوا کی مبینہ کوشش میں ملوث دس سے بارہ مسلح افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستانی صحافی اسد ہاشمی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر طحہٰ صدیقی کی تصاویر شئیر کیں۔ ہاشمی کے مطابق صدیقی کو ایک گاڑی میں زبردستی بٹھایا گیا لیکن یہ چلتی گاڑی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہاشمی کے مطابق صدیقی کو مارا پیٹا گیا اور انہیں قتل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔

اس واقعے کے بعد صدیقی نے صحافی سرل المائیڈا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ میں لکھا،''میں صبح آٹھ بجے کے قریب ایئرپورٹ جا رہا تھا جب دس سے بارہ مسلح افراد نے میری ٹیکسی کو روکا اور مجھے زبردستی اغوا کرنے کی کوشش کی۔ میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اب میں محفوظ ہوں اور پولیس کے ساتھ ہوں۔‘‘

 طحہٰ نے کہا کہ انہیں اس وقت مدد کی ضرورت ہے اور انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں ہیش ٹیگ StopEnforcedDisappearances بھی استعمال کیا۔

ٹوئٹر پر کئی صحافی طحہٰ کے حق میں بات کر رہے ہیں۔ صحافی حامد میر نے لکھا،’’مجھے بھی انہوں نے مارنے کی پوری کوشش کی۔ کئی کلومیڑ میرا پیچھا کیا۔ مجھے آخری گولی ہسپتال کے قریب جا کر لگی لیکن وہ سب اللہ سے زیادہ طاقت ور نہیں تھے۔‘‘

پاکستان میں صحافیوں کے قتل اور ان پر حملوں پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ’میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کے شریک بانی اسد بیگ نے کہا،’’صدیقی پر کس نے حملہ کیا یہ تو تحقیقاتی اداروں کو بتانا ہوگا۔ لیکن صحافیوں پر کل حملوں میں سے صرف تین فیصد کیسز میں ہی تحقیقاتی ادارے اس کا جواب دے سکے ہیں۔ اور مجھے خدشہ ہے کہ یہ جرم کس نے کیا، یہ معلوم کرنا شاید ناممکن ہوگا۔‘‘

 بیگ نے کہا،’’جبری گمشدگیوں کے رجحان اور ایک سال پہلے اغوا ہونے والے کارکنان کی کہانیاں سن کر لگتا ایسا ہی کہ ان حملوں میں ریاست کے ادارے ملوث ہیں۔‘‘ بیگ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ پولیس اس کیس کی تحقیقات کر سکے گی۔

بیگ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں مزید کہا،’’یہ اسلام آباد میں صحافیوں پر چوتھا حملہ ہے۔ اعزاز، مطیع اللہ، نورانی اور اب طحہٰ، اور واضح رہے کہ یہ تمام صحافی سکیورٹی پولیس کے شدید ناقد ہیں۔ ان پر حملے کیا محض اتفاق ہیں؟‘‘

صحافی سید شاہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’پاکستان میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے صحافیوں پر تشدد، دباؤ اور انہیں ہراساں کرنے کا ایک رجحان ہے۔ صحافیوں پر قاتلانہ حملوں اور ان کو جان سے مار دینے کے واقعات کی بھی تحقیقات نہیں کی جاتیں۔‘‘

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق 2017ء میں پاکستان میں چار صحافیوں کو مختلف واقعات میں ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے خطربناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

DW.COM