1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایردوآن کی کامیابی، دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکے

ترکی میں اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی سیاسی پارٹی تیسری مدت کے لیے کامیاب ضرور ہو ئی ہے، تاہم اسے مطلوبہ دو تہائی اکثریت پھر بھی حاصل نہیں ہو سکی۔

default

ترکی کے وزیر اعظم ایردوآن کی سیاسی جماعت (AKP) پارلیمانی الیکشن میں تقریباً پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ایک بار پھر پارلیمنٹ میں دو تہائی نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امکان ہے کہ ان کی اس قدرے قدامت پسند جماعت کو 326 نشستیں حاصل ہوں گی جو دو تہائی سے کم ہیں۔ الیکشن سے قبل حکمران جماعت کو یقین تھا کہ وہ مطلوبہ 367 نشستوں پر کامیاب ہو جائے گی۔

کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد باون ملین ہے جبکہ ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 84 فیصد ہے۔ اتوار کے پارلیمانی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ سابق پارلیمان میں خواتین اراکین کی تعداد پچاس تھی، اس بار یہ تعداد ستّر سے زائد ہو سکتی ہے۔ اس مرتبہ پہلی بار ایک مسیحی Erol Dora بطور آزاد رکن، پارلیمنٹ میں سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہے۔ یہ عاشوری مسیحی امیدوار جنوب مشرقی صوبے مادرین سے کامیاب ہوئے ہیں۔

Wahlen in der Türkei Wähler AKP

الیکشن کے موقع پر عوامی جوش و خروش

حکمران جماعت کو بظاہر ووٹ زیادہ حاصل ہوئے ہیں لیکن پارلیمنٹ میں اس کی نشستوں کی تعداد سابق پارلیمنٹ کے مقابلے میں کم ہے۔ سن 2007 میں ایردوآن کی پارٹی کو 341 سیٹیں حاصل تھیں۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس مرتبہ کچھ علاقائی پارٹیوں کو بھی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

حکمران جماعت کی قریب ترین حریف پارٹی سیکولر ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) ہے، جو مرکزی اپوزیشن جماعت بھی ہے۔ اس کو 26 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ یہ سابق الیکشن کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ پچھلے انتخابات یعنی سن 2007 میں سیکولر جماعت کو 21 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور نیشنلسٹ ایکشن پارٹی (MHP) کو بھی تیرہ فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کردش پیس اور ڈیموکریسی پارٹی (BDP) نے جنوب مشرقی علاقے میں چھ فیصد کے قریب ووٹ حاصل کیے۔ کرد جماعت کے کئی آزاد امیدوار بھی الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس طرح کرد پارٹی کی پارلیمنٹ میں سیٹوں کی تعداد 28 تک پہنچ گئی ہے۔

ایردوآن کی سیاسی جماعت کو سن 2002 میں پہلی بار کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اسی جماعت نے دوسری مرتبہ سن 2007 میں انتخابات میں فتح پائی۔ اس بار اس کے ووٹ بینک میں پہلے الیکشن کے مقابلے میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رجب طیب ایردوآن اپنے ملک کے موجودہ دستور میں اساسی تبدیلیوں کے متمنی ہیں۔ یہ دستور سن 1982 کی فوجی حکومت نے مرتب کیا تھا۔ ان کی حکومت کو گزشتہ سال ایک دستوری ریفرنڈم میں بھاری کامیابی بھی حاصل ہوئی تھی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس