1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایردوآن کی ’’خوش قسمتی میں بد قسمتی‘‘

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن گزشتہ کئی برسوں نے ملک میں نسے آئین کی وکالت کرتے آ رہے ہیں۔ تاہم اب انتخابات میں کامیابی کے باوجود بھی وہ تنہا ملکی آئین تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ ڈوئچے ویلے کا تبصرہ

default

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی جماعت پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ تاہم ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی( AKP ) ایک بار پھر دو تہائی نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تنہا ملکی آئین تبدیل نہیں کر سکتی۔ ایردوآن ملک میں نئے آئین کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی یہ کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار باہا گنگور کے بقول اسے کہتے ہیں’’ خوش قسمتی میں بد قسمتی‘‘۔

اتوار کے پارلیمانی انتخابات نے ترکی میں جمہوری اقدار کی مضبوطی کو واضح کر دیا ہے۔ تقریباً 50 فیصد ووٹرز نے رجب طیب ایردوآن کی پارٹی برائے انصاف اور ترقی کو ووٹ ڈالے۔ یہ اس جماعت کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ساتھ ہی انتخابی عمل میں 84 فیصد افراد کی شرکت بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے اور اس کا سہرا بھی انہی کی جماعت کے سر جاتا ہے۔ اس طرح AKP نے تیسری مرتبہ حکومت میں آ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Wahlen in der Türkei Wähler AKP Flash-Galerie

انتخابی عمل میں 84 فیصد افراد نے حصہ لیا

2002ء میں اس جماعت کو صرف 34 فیصد ووٹ ملے تھے۔ چار سال بعد 46.5 فیصد اور اب 50 فیصد سے بھی زیادہ۔ باہا کہتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران AKP پر عوام کے بھروسے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

آخر ایردوآن کی تیسری مرتبہ کامیابی کا راز کیا ہے؟ اس کے پس پردہ بہت سے عوامل ہیں۔ ان میں سے ایک گزشتہ کئی برسوں سے ترکی میں ہونے والی اقتصادی ترقی ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کے ریاستی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے پائی جانے والی سوچ بھی تبدیل ہوئی ہے۔ ملکی اداروں میں استحکام آیا ہے۔ ساتھ ہی ایردوآن کی جیت اپنے اندر کچھ منفی پہلو بھی لیے ہوئے ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ایردوآن من مانی کرنے لگے ہیں۔ مشیروں کی بات نہیں سنتے اور مخالفین کو ملک دشمن قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔

KAUSA Medienpreis 2010, Preisverleihung

ایردوآن کی جیت اپنے اندر کچھ منفی پہلو بھی لیے ہوئے ہے، باہا گنگور

بے شک اکثریت نے اے کے پی کو ووٹ دیا ہے تاہم انہیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ابھی مشکل وقت اُن کا انتظار کر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ ایک سیکولر ملک میں مذہب کو فوقیت دی جاتی رہے گی اور اس طرح ترکی یورپی حکام کوخود ہی یورپی یونین میں شا مل نہ کرنے کے حوالے سے ایک سبب فراہم کر دے گا۔ بہرحال اگلے چار برسوں میں اے کے پی پہلے سے طے کیے گئے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ باہا گنگور کہتے ہیں کہ ایردوآن کے لیے خوش قستمی میں بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی فتح کے باوجود حزب اختلاف کےساتھ مفاہمت اور سمجھوتہ کیے بغیر آئین میں اپنی من پسند ترامیم نہیں کر سکتے۔

تبصرہ: باہا گنگور

ترجمہ: عدنان اسحاق

ادارت : مقبول ملک

DW.COM