1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایردوآن کی جماعت، ایک بار پھر ’کامیاب‘

ترکی میں آج ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نامکمل نتائج کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی سیاسی جماعت کے ایک بار پھر حکومت بنانے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترکی میں حکمران جماعت AKP کے دو سینیئر اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک کے نتائج کے مطابق اس بات کے روشن امکانات نظر آ رہے ہیں کہ ان کی جماعت ایک بار پھر اکیلے ہی حکومت سازی میں کامیاب ہو جائے گی۔

ترکی کے سرکاری ٹیلی وژن TRT کے مطابق اب تک 76 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جن میں سے اے کے پی 51 فیصد ووٹ لے کر سرفہرست ہے۔ روئٹرز کے مطابق چونکہ ابھی ملک کے بعض بڑے شہروں سمیت مزید علاقوں میں ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے لہذا نتائج میں بڑی تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔

اے کے پی کے ایک سینیئر اہلکار نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس بات کے امکانات بڑھ جائیں گے کہ یہ جماعت اکیلے ہی حکومت سازی کرے۔

دوسری طرف ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت CHP کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے کہ ان کی جماعت اتحادی حکومت بنا سکے گی۔

آج اتوار کے روز ہونے والے ان عام انتخابات کے لیے حتمی نتائج کل پیر دو نومبر کو متوقع ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس جون میں ہونے والے انتخابات میں اے کے پی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ اتحادی حکومت کے قیام میں ناکامی کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

87.2 فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا

87.2 فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا

اب تک کے نتائج کے مطابق اے کے پی پارلیمان میں 325 نشستیں حاصل کر سکے گی۔ جون کے انتخابات میں اے کے پی کے حصے میں پارلیمان کی 276 سیٹیں آئی تھیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بائیں بازو کی اعتدال پسند جماعت پیپلز ری پبلکن پارٹی (CHP) نے 20 فیصد کے قریب ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ انتہائی بائیں بازو کی جماعت نیشلسٹ موومنٹ پارٹی (HDP) اور بائیں بازو کی کرد نواز سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی دونوں نے قریب 11, 11 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

آج اتوار یکم نومبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب کافی زیادہ رہا۔ ڈی پی اے کے مطابق قریب 87.2 فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔