1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایردوآن پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

ترک صدر ایردوآن کی جانب سے جرمن پارلیمان کے ترک نژاد ارکان کی تضحیک کرنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایردوآن اور ان کے کچھ ساتھیوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

جرمن پارلیمان میں بائیں بازو کی جماعت دی لنکے کی رکن سیوم ڈاہڈیلن نے ان تمام ترک شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔ ان کے بقول اس فہرست میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر کو چاہیے کہ وہ ایردوآن کے زبانی حملوں کا ذاتی طور پر جواب دیں۔ جرمن اخبار بلڈ کے مطابق استنبول کے ایک تاجر نے ڈاہڈیلن کے سر کی قیمت ایک لاکھ یورو مقرر کی ہے۔

سیوم ڈاہڈیلن 2005ء سے جرمن پارلیمان کی رکن ہیں،’’ کوئی بھی شخص ترکی میں بیٹھ کر جرمن ارکان کے خلاف تشدد کی بات کرے گا تو اس کے داخلے پر پابندی ہونی چاہیے۔ چانسلر میرکل کو ایردوآن سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔‘‘

ابھی تقریباً دو ہفتے قبل ہی جرمن پارلیمان میں اُس علامتی قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا تھا، جس میں پہلی عالمی جنگ کے دوران 1915ء میں سلطنتِ عثمانیہ کی افواج کے ہاتھوں 1.5 ملین آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو ’نسل کُشی‘ قرار دیا گیا ہے۔ اپنے ابتدائی ردعمل میں انقرہ حکومت کے ایک ترجمان نے اس قراردا د کی منظوری کو ایک ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ترک سربراہ مملکت نے کہا تھا کہ اس قرارداد کی حمایت کرنے والے جرمن پارلیمان کے ترک نژاد ارکان کا خون خراب ہو چکا ہے۔ اس واقعے کے بعد ان ارکان کو قتل کی دھمکیاں بھی ملی ہیں۔ ان دھمکیوں کے تناظر میں گیارہ ترک نژاد جرمن ارکانِ پارلیمنٹ کو پولیس نے اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔ جرمنی کی وزارت خارجہ نے ترک نژاد ارکان پارلیمان کو ترکی کا سفر کرنے کے خلاف تنبیہ بھی کی ہے اور کہا ہے کہ وہاں ان کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

دوسری جانب یورپی پیپلز پارٹی ’ای وی پی‘ کے رہنما منفریڈ ویبر نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے موضوع پر مذاکرات کو فوری طور پر روک دیے جائیں۔ ویبر نے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہم یورپی یونین میں ترکی کو مکمل طور پر شامل کیے جانے کے اپنے ہدف سے روز بروز دور ہوتے جا رہے ہیں‘‘۔ ان کے بقول وہ یورپی یونین کے کسی بھی ایسے رہنما کو نہیں جانتے، جو سنجیدگی سے یہ چاہتا ہو کہ ترکی کو اس اتحاد میں شامل کیا جائے۔ اس موقع پر منفریڈ ویبر نے کہا کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو انقرہ کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔