1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایردوآن جرمن کامیڈین کی نظم پر مکمل پابندی کے خواہاں

ترک صدر رجب طیب ایردوآن جرمن کامیڈین ژان بوئمرمان کی نظم پر مکمل پابندی کے خواہاں ہیں۔ اس نظم میں ایردوآن کے آمرانہ طرز حکومت کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

ہفتے کے روز جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی جرمن شہر ہیمبرگ کی ایک عدالت کی جانب سے بوئمرمان کو منع کیا گیا تھا کہ وہ اپنی نظم کے کچھ حصوں کو کہیں نہیں پڑھ سکتے۔ تاہم ترک صدر کی خواہش ہے کہ اس پوری نظم پر ہی مکمل طور پر پابندی عائد کر دی جائے۔

ایردوآن کے وکیل میشائل ہوبرٹس فان اشپرنگر نے ہیمبرگ شہر کی ضلعی عدالت میں ایک اپیل دائر کی ہے، جس میں درخواست کی گئی ہے کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اس پوری نظم پر مکمل پابندی عائد کر دے۔

عدالت کے ترجمان نے اس اپیل کی تصدیق نہیں کی ہے جب کہ ڈیئر اشیپگل کے مطابق ایردوآن کے وکیل کی جانب سے بھی اس بابت کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ نظم بوئمرمان نے 31 مارچ کو جرمن پبلک سروس ٹی وی ZDF پر نشر کیے جانے والے اپنے ایک پروگرام کے دوران سنائی تھی، جس میں ایک طرف تو ایردوآن کی ’سخت آمرانہ پالیسیوں‘ کا مذاق اڑایا گیا تھا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ایردوآن چائلڈ پورنوگرافی دیکھتے ہیں اور جانوروں کے ساتھ جنسی افعال انجام دیتے ہیں‘۔

Jan Böhmermann Neo Magazin

بوئمرمان نے ایک کامیڈی شو میں یہ نظم پڑھی تھی

رواں برس مئی میں ہیمبرگ کی عدالت نے بوئمرمان کی اس نظم کو فن و اظہار کی آزادی کے قانون کے تحت ایک مزاحیہ نظم قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اس نظم میں ایردوآن کے جنسی افعال کے حوالے دینا ایک ’برا‘ اور ’ہتک عزت‘ کا معاملہ بھی ہے۔

عدالتی فیصلے کو آزادی رائے اور فنی اظہاریوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کے انفرادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک متوازن فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔

فان اشپرنگر کے مطابق بوئمرمان نے کوئی ’فنی شاہ کار‘ تخلیق نہیں کیا اور اس لیے اس نظم کو ’فنی اظہاریے کی آزادی‘ کے زمرے میں نہیں لانا چاہیے تھا۔

اس نظم کے نشر ہونے کے بعد جرمنی اور ترکی کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جب کہ ترکی کی جانب سے برلن حکومتی سے باضابطہ طور پر اپیل کی گئی تھی کہ اس نظم پر پابندی عائد کی جائے، جب کہ کامیڈین کو سزا بھی دی جائے۔