1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایردوآن: ’ترکی کا آخری آمر‘؟

نجات دہندہ یا آمر؟ نچلی سطح سے آغاز کرنے والے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، اتاترک کے بعد ترکی کے مضبوط ترین سیاستدان بن چکے ہیں۔ تاہم ایک دہائی سے زائد عرصے سے طاقت میں موجود ایردوآن اس وقت متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک تجزیے کے مطابق ایردوآن کے حامی انہیں ایک تغیراتی شخصیت قرار دیتے ہیں جنہوں نے ترکی کو جدید بنایا ہے، تاہم ان کے مخالفیں انہیں ایک ایسا رہنما قرار دیتے ہیں جو اپنی شخصیت اور اپنے عہدے کو طاقتور سے طاقتور بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

ایک کوسٹ گارڈ کے بیٹے رجب طیب ایردوآن نے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ 1994ء میں استبول کے میئر منتخب ہوئے اور انہوں نے 15 ملین کی آبادی والے اس میگا سٹی میں ٹریفک اور فضائی آلودگی جیسے مسائل پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی مذہبی سیاسی جماعت کو جب کالعدم قرار دے دیا گیا تو مظاہروں میں شرکت پر انہیں چار ماہ کی جیل بھی کاٹنا پڑی۔

ایردوآن اور ان کے طویل عرصے کے ساتھی عبداللہ گُل نے 2001ء میں AKP کی بنیاد رکھی۔ یہ سیاسی جماعت 2002ء کے بعد سے ہر انتخاب میں کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔ چار بچوں کے باپ ایردوآن AKP کو اپنی پانچویں اولاد قرار دیتے ہیں۔

ابتداء میں ان کے مجرمانہ ریکارڈ کے باعث مشکلات کا سامنا رہا تاہم 2003ء میں ملکی پارلیمان کی طرف سے نئی اصلاحات منظور کیے جانے کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم بنے۔

ایردوآن کی طرف سے امریکی طرز پر صدارتی نظام لاتے ہوئے اپنے عہدے کو مزید طاقتور بنانے کا خواب رواں برس جون میں ہونے والے انتخابات میں اس وقت چکنا چور ہو گیا جب ان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (AKP) نے اپنی پارلیمانی اکثریت کھو دی۔ اس طرح گزشتہ 13 برس ترکی میں ایک ہی جماعت کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے بم دھماکوں اور کُرد علیحدگی پسندوں کے ساتھ ہونے والی خونریز جھڑپوں کے تناظر میں ہونے والے ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آج یکم نومبر کو ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا نتیجہ گزشتہ جون میں ہونے والے والے انتخابات سے مختلف نہیں ہو گا۔

ترکی میں آج یکم نومبر کو پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے

ترکی میں آج یکم نومبر کو پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے

اے ایف پی کے مطابق اگر ان انتخابات کے نتیجہ بھی AKP کے حق میں نہیں آتا تو نہ صرف ان کے وزیراعظم احمد داؤد اولُو کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا بلکہ ایردوآن کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشانات لگ جائیں گے۔

61 سالہ ایردوآن پہلی مرتبہ 2003ء میں بطور وزیراعظم اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں فوجی بغاوتوں اور غیر مستحکم اتحادی حکومتوں کی تاریخ رکھنے والے اور معاشی طور پر مشکلات کے شکار ترکی کو استحکام کی راہ پر ڈالا۔ تاہم ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ایردوآن اب قدامت پسندانہ اسلامی اقدار کو لاگو کر نے کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین اور میڈیا کو کنٹرول کر کے سیکولر ڈیموکریسی کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

اس کا ایک مظاہرہ چند روز قبل بھی دیکھنے میں آیا جب پولیس نے ایردوآن کے مخالف رہنما سے تعلق رکھنے والے ٹیلی وژن اسٹیشنوں کو بند کر دیا۔ امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے فتح اللہ گُلن پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایردوآن کے قریبی لوگوں کی بدعنوانی کوبے نقاب کراتے ہوئے دراصل ایردوآن کے اقتدار کو ختم کرانے کی کوشش کی۔

ان ٹیلی وژن اسٹیشنوں کے خلاف چھاپوں کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران ایک پلے کارڈ پر ایردوآن کو ’آخری آمر‘ قراد دیا گیا۔