1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایردوآن اگلے الیکشن میں بھاری کامیابی کے متمنی

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی سیاسی جماعت کے قیام کے سولہ برس مکمل ہو گئے ہیں۔ حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے حالیہ جلسوں میں بھی مقررین نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ جماعت سن 2019 کے انتخابات بھی جیت جائے گی۔

جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے قیام کے بعد ہی رجب طیب ایردوآن کی حکمرانی کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ پہلے وہ اس پارٹی کا الیکشن جیت کر وزیراعظم بنے اور پھر صدر کا منصب سنبھالا۔ رواں برس کی دستوری ترمیم کے بعد اب ایردوآن ملک کے بااختیار صدر بن چکے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے ایگزیکٹیو اختیار بھی اُن کو منتقل ہو گئے ہیں۔

انہوں نے منصب صدارت سن 2014 میں سنبھالا تھا۔ ایردوآن سن 2003 سے لے کر سن 2014 تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر بھی فائز رہے تھے۔

غداروں کے سر کچلنے سے گریز نہیں کریں گے، ایردوآن

ترک ریفرنڈم پر تنقید، ایردوآن برہم

ترکی میں آئینی ریفرنڈم: حقائق، جو آپ کو جاننے چاہییں

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت، ایک سال بیت گیا

ترکی میں اگلے انتخابات سن 2019 میں ہوں گے۔ حالیہ جلسوں اور پارٹی میٹنگوں میں ایسی توقعات کا اظہار کیا گیا ہے کہ پارٹی ان الیکشن میں بھاری اکثریت حاصل کرے گی۔ اسی طرح صدارتی انتخابات میں رجب طیب ایردوآن ایک اور مدتِ صدارت کے لیے بھی منتخب ہو جائیں گے۔ صدر ایردوآن یہ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ وہ اگلے عام انتخابات سے قبل پارٹی کے اہم درجوں میں ردوبدل کرنے کی منصوبہ بندی کیے ہوئے ہیں

Erdogan in Rize Türkei (picture alliance/dpa/M.Cetinmuhurdar)

ترکی میں اگلے انتخابات سن 2019 میں ہوں گے

۔

ایسی پارٹی میٹنگز جن میں ایردوآن شریک ہوتے رہے ہیں، اُن میں وہ اپنے حامیوں اور پارٹی اہلکاروں کو تلقین کر چکے ہیں کہ اگلے الیکشن کی انتخابی مہم کے لیے ہر حلقے کے ہر گھر تک پارٹی منشور پہنچانے کے لیے وہ ہمہ وقت تیار رہیں۔

ابھی گزشتہ ہفتہ ہی بحیرہ اسود کے کنارے پر واقع صوبے گریسُون میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اگلے انتخابات سے قبل پارٹی کے مختلف عہدوں کے ساتھ ساتھ پالیسیوں کے حوالے سے بھی انتہائی اہم اور سنجیدہ تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کسی حد تک مذہبی اقدار کی جانب جھکاؤ رکھتی ہے اور جدید ترکی کے سیکولر نظریات سے بھی ہم آہنگ خیال نہیں کی جاتی۔ ترکی میں مرکزی اپوزیشن جماعت رپبلکن پارٹی ایردوآن کے حکومتی ایجنڈے پر شاکی ہوتے ہوئے کڑی نکتہ چینی بھی کرتی رہتی ہے۔

DW.COM