1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے موقف میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عراق ، افغانستان اور لبنان کی جنگ کے اب تک کے نتائج نے یورپی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ایران کے خلاف سخت اقدام کرکے کوئی نیا محاذ کھولنا چاہیے یا نہیں۔

default

آج برلن میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے شعبے کے سربراہ خاویار سولانا اور ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کے درمیان دو روز سے جاری گفتگو اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔

ان مذاکرات کے اختتام پر خاویار سولانا نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ڈیل تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں لیکن ان مذاکرات سے آئندہ کی گفتگو کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی فریقین کے درمیان بعض حل طلب مسائل باقی ہیں، تاہم ان مذاکرات میں کچھ نہ کچھ کامیابی بھی ہوئی ہے۔

علی لاریجانی نے بھی ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا دو روز سے جاری ان مذاکرات میں ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برلن کے مذاکرات فریقین کے درمیان کسی مفاہمت آمیز حل تک پہنچنے کا آخری موقع تھا۔

خاویار سولانا اور علی لاریجانی کے درمیان اس ایک ماہ میں یہ دوسری ملاقات تھی۔ اس سے پہلے سلامتی کونسل نے ایران کو 31 ، اگست تک اپنا جوہری پروگرام روک دینے کا الٹی میٹم دیا تھا جسے ایران نے نظر انداز کر دیا ۔

اس کے بعد یورپی ممالک نے روس او ر چین کی منظوری سے ایران کو اقتصادی مراعات کا ایک ترغیبی پیکیج پیش کیا جس کا ایران کی طرف سے جو جواب دیا گیا اس نے یورپی ممالک کو مطمئن نہیں کیا۔

ادھرایران کے صدر احمدی نژادنے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کسی صورت میں بھی اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کے لئے تیارنہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم اس سلسلے میں ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

دوسری طرف جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر بھی ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی سے ملاقات کرنے والے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ ہم کسی ایسے نتیجے تک پہنچ جائیں گے جس کے بعد سلامتی کونسل کی مداخلت کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ایران مسلسل اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے جبکہ خاص طور پر امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یورپی ممالک ایران کے خلاف فوری طور پرکوئی اقدام کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور بظاہرایران کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں یورپی ممالک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عراق ، افغانستان اور لبنان کی جنگ کے اب تک کے نتائج نے یورپی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ایران کے خلاف سخت اقدام کرکے کوئی نیا محاذ کھولنا چاہیے یا نہیں۔