1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے متنازعہ صدارتی انتخابات کا ایک سال

ٹھیک ایک سال پہلے بارہ جون سن 2009ء کو ایران میں متنازعہ صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ ایرانی اپوزیشن نے ان انتخابات میں محمود احمدی نژاد کو فاتح قرار دئے جانے کے بعد کئی ہفتوں تک زبردست احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔

default

ایرانی پولیس اور ایک احتجاجی: فائل فوٹو

آج اِن متنازعہ صدارتی انتخابات کو ایک سال مکمل ہونے پر امریکی صدر باراک اوباما نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ’آزادی کے لئے ایرانی عوام کی جدوجہد میں اُس کی تائید و حمایت کرے۔‘ واشنگٹن میں ایک بیان میں اوباما نے کہا، ’اِس بات کو واضح کرنا تمام آزاد انسانوں اور آزاد اقوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اُن لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، جو آزادی، انصاف اور وقار چاہتے ہیں۔‘

اوباما نے مزید کہا کہ ایک سال پہلے کے انتخابات ایک ایسے واقعے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے، جس کے دوران ’بے رحمانہ استحصال‘ اور ’ بے گناہوں کا قتل‘ روا رکھا گیا۔ اپوزیشن کا اب بھی یہ کہنا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی۔ انتخابات کے بعد ایرانی اپوزیشن کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے کہ جن کی اِس ملک میں تین عشروں سے زیادہ عرصے میں کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔ تاہم تہران حکومت نے یہ مظاہرے طاقت استعمال کرتے ہوئے بُری طرح سے کچل دئے۔ اِس دوران درجنوں افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی سو گرفتار کر لئے گئے اور ان میں سے بعض کو عدالتوں کی جانب سے موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔

Iran Wahl Mussawi 11 Juni Flash-Galerie

گزشتہ سال کے صدارتی الیکشن میں شریک اصلاحات پسندوں کے امیدوار میر حسین موسوی ووٹ ڈالتے ہوئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ: فائل فوٹو

ایرانی اپوزیشن نے آج اِن متنازعہ صدارتی انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر احتجاجی مظاہروں کی اپیل کرنے سے گریز کیا ہے۔ اصلاحات پسند ایرانی سیاستدانوں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی نے بتایا ہے کہ اپوزیشن ارکان نے آج یعنی بارہ جون کو ایک ’پُر امن اور خاموش‘ مظاہرے کی درخواست دی تھی، جسے وزارتِ داخلہ نے رَد کر دیا ہے۔ دونوں سیاستدانوں نے کہا کہ لوگوں کو خطرے سے دوچار نہ کرنے کے لئے یہ مجوزہ مظاہرہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اِسی دوران صدر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ اور امریکہ کو ایک بار پھر ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ چینی شہر شنگھائی میں ورلڈ ایکسپو کے ایک دورے کے موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل امریکہ کے ہاتھوں میں ہے اور ایک ’آمرانہ آلہء کار‘ بنی ہوئی ہے۔ احمدی نژاد نے یہ بھی کہا کہ نئی پابندیاں ’بے اثر‘ ثابت ہوں گی۔

Iran Wahlen Reaktionen Demonstration

الیکشن کے بعد ہونے والے ایک مظاہرے میں شریک خاتون: فائل فوٹو

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے جمعے کو برسلز میں نیٹو کی دفاعی کونسل میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران حکومت بہت ہی جلد ایٹمی ہتھیاروں کی دسترس میں آنے والی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کے اندازوں کے مطابق ایک سے لے کر تین سال تک کے اندر اندر یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایران اتنی مقدار میں یورینیم افزودہ کرنے میں کامیاب ہو جائے، جس سے کہ ایٹمی ہتھیار تیار کئے جا سکتے ہوں۔

جمعے کو ہی روسی وزیر اعظم ولادی میر پوٹین نے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کو یقین دلایا کہ اُن کا ملک ایران کو ایس 300 طرز کے میزائلوں کی فراہمی کا سمجھوتہ منجمد کر دے گا۔ تاہم پوٹین نے یہ بھی کہا کہ ایسا کرنا اُن کے ملک کو بہت مہنگا پڑے گا۔ پوٹین نے کہا:’’ایرانی بہت غیر مطمئن ہیں، اب وہ کوشش کریں گے کہ سمجھوتے کی پاسداری نہ کرنے پر تعزیری اقدامات کریں۔‘‘ فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق سارکوزی نے اِس فیصلے پر پوٹین کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ’غیر معمولی طور پر جرأت مندانہ اقدام‘ ہے۔

روس نے تہران کو طیارہ شکن میزائل فراہم کرنےکا یہ معاہدہ سن 2007ء میں کیا تھا تاہم اُس نے اسرائیل اور امریکہ کے دباؤ کے باعث ابھی تک یہ میزائل ایران کو فراہم نہیں کئے۔ اب ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی نئی قرارداد کی روشنی میں بھی ایران کو یہ جدید ہتھیار فراہم نہیں کئے جا سکتے ۔

بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ایران کے بدستور غیر لچکدارانہ موقف کی وجہ سے اُس کے خلاف پہلے سے چلی آرہی پابندیاں مزید سخت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ آئندہ پیر کو یورپی یونین کے وُزرائے خارجہ کا ایک اجلاس لکسمبرگ میں منعقد ہو گا، جس میں ایران کے خلاف اضافی اقدامات پر تبادلہء خیال کیا جائے گا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ جمعرات کو یورپی یونین کی مجوزہ سربراہ کانفرنس میں ایران کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عابد حسین

DW.COM