1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں تہران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کی تیاری کے لئے کچھ اضافی پرزہ جات کے حصول کی کوششوں میں ہے۔

default

بین الاقوامی معائنہ کاروں کی اس رپورٹ سے ایران اور مغرب کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایران کے خلاف چوتھے مرحلے کی شدید ترین پابندیوں کی حمایت اور قیادت کرنے والے ملک امریکہ نے اس رپورٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران کی ایسی کوششیں اس کے خلاف سخت ترین پابندیوں کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔

رواں برس فروری میں تہران نے یورینیم کی افزودگی کی سطح بیس فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ تہرانی موقف کے مطابق اس کی توانائی کی ضروریات اور طبی مقاصد کے لئے درکار افزودہ یورینیم 20 فیصد تک کرنے سے ہی پوری ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد ایک معاہدے کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ ایران اپنے ہاں موجود کم افزودہ یورینیم فرانس اور روس بھیجے گا، جو اسے پر امن مقاصد کے لئے درکار افزودہ یورینیم واپس لوٹائیں گے، تاہم تہران نے معاہدے کے چند نکات پر اعتراض کرتے ہوئے اس معاہدے کو مسترد کر دیا تھا۔

گزشتہ ماہ برازیل، ترکی اور ایران کے درمیان طے پانے والے ایک اور معاہدے میں اس امر پر اتفاق ظاہر کیا گیا تھا کہ تہران اپنے پاس موجود ایک اعشاریہ دو ٹن کم افزودہ یورینیم ترکی کے حوالے کرے گا، جو اسے ایک سو بیس کلو گرام درمیانے درجے کی افزودہ یورینیم لوٹائے گا۔ اس ڈیل پر مغربی ممالک نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے نے اپنی اس تازہ ترین رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے ہاں موجود کم افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ایک اعشاریہ دو ٹن سے دو اعشاریہ چار ٹن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اگر وہ اس یورینیم کی اعلیٰ درجے کی افزودگی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو، اسے یورینیم کی وہ مقدار حاصل ہو جائے گی، جس کی مدد سے وہ ایٹم بم تیار کر سکتا ہے۔

Ahmadinejad mit Uran Zentrifugen

رواں برس فروری میں تہران نے یورینیم کی افزودگی کی سطح بیس فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا

ایران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لئے ہے، تاہم مغربی ممالک اس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوششوں میں ہے۔

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی سلامتی اور انسٹیٹیوٹ برائے سائنس کے سربراہ ڈیوڈ البرائٹ کے مطابق اس رپورٹ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تہران برازیل اور ترکی ڈیل کے پس پردہ اپنی جارحانہ جوہری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

درین اثناء پیر کے روز تہران نے ایک اور جوہری پلانٹ کے معائنے کے لئے بین الاقوامی انسپیکٹروں کو اجازت دے دی ہے۔ اس تازہ اجازت کے تحت یہ بین الاقوامی معائنہ کار ایک ایرانی جوہری ری ایکٹر کا کڑا معائنہ کر سکیں گے اور وہاں جاری رہنے والی جوہری سرگرمیوں کی جاجچ پڑتال کے بعد اپنے رپورٹ IAEA کے حوالے کریں گے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM