1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے لئے دروازے اب بھی کھلے ہیں: کلنٹن

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نےکہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے چوتھے دور کی منظوری کے باوجود تہران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بند نہیں کیا گیا ہے اور تہران کے لئے بات چیت کا دروازہ کھلا ہے۔

default

اپنے دورہ کولمبیا کے دوران ایک بیان میں کلنٹن نے کہا کہ عالمی برادری کا ہدف ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے خلاف سلامتی کونسل کی ان نئی پابندیوں کی منظوری کے بعد بھی ترکی اور برازیل ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔

Sicherheitsrat

سلامتی کونسل نے اکثریتی رائے سے ایران کے خلاف پابندیوں کی قرارداد کی منظوری دی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بدھ کے روز ایران مخالف پابندیوں کے چوتھے دور کو بھی منظور کر لیا گیا۔ پابندیوں کی قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور دس غیر مستقل اراکین نے اپنی رائے دی۔ اس قرار داد کے حق میں 12 ووٹ پڑے۔ برازیل اور ترکی نے تہران مخالف پابندیوں کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ لبنان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اس سے قبل ترکی اور برازیل نے ایران کے ساتھ کم افزودہ یورینیم کے بدلے درمیانے درجے تک افزودہ یورینیم کی ترسیل کا معاہدہ کیا تھا، تاہم واشنگٹن نے وہ معاہدہ مسترد کرتے ہوئے پابندیوں پر زور دیا تھا۔

سلامتی کونسل کی جانب سے تہران مخالف پابندیوں کی قرارداد پر ووٹنگ کے بعد سامنے آنے والی صورتحال پر کلنٹن نے صدر اوباما سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

Iran hat erfolgreich Uran angereichert Präsident Mahmoud Ahmadinedschad

ایرانی صدر نے خبردار کیا تھا کہ پابندیوں سے تہران کو جوہری پروگرام آگے بڑھانے سے روکا نہیں جا سکتا

کلنٹن نےصحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ان پابندیوں کی مدد سے ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ تہران مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ کلنٹن کے بقول تہران کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہونا ہی پڑے گا۔

دوسری جانب ترکی اور برازیل نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا فیصلہ ایک ’بڑی غلطی‘ ہے۔ برازیلی صدر لولا ڈی سلوا نے اپنے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ یہ پابندیاں عائد کر کے عالمی برادری نے ایک بڑا اہم موقع ضائع کر دیا ہے۔ لولا ڈی سلوا نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اب جب کہ ایران مذاکرات پر آمادہ تھا، اس وقت عالمی برادری نے اس کے خلاف پابندیاں عائد کر کے بات چیت کے دروازے کو بند کر دیا ہے۔

ترک وزیرحارجہ احمت داوت اگلو نے اپنے ایک بیان میں ان پابندیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ کی اب بھی یہی کوشش ہو گی کہ وہ گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ ایندھن کی لین دین کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کو اس کی اصل روح کے ساتھ عمل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ تہران مخالف پابندیوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب تہران سے مذاکرات ممکن نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تہران سنجیدہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے تومذاکرات ممکن ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM