1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے شام میں کردار پر بات ہو گی، جرمن وزیر

جرمن وزیر اقتصادیات زیگمار گابریئل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دورہ ایران کے دوران شام میں ایرانی کردار اور وہاں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی بات کریں گے۔ انہوں نے یہ بات جرمن میگزین ڈئر اشپیگل کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی۔

ہفتہ وار میگزین ڈئر اشپیگل کے مطابق زیگمار گابریئل کا کہنا تھا کہ ایران جرمنی کے ساتھ صرف اُسی صورت میں معمول کے اور دوستانہ تعلقات رکھ سکتا ہے جب وہ اسرائیل کے بقا کے حق کو تسلیم کرے۔ گابریئل جرمنی کے نائب چانسلر بھی ہیں۔

زیگمار گابریئل اتوار دو اکتوبر کو ایران کے دو روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ  ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں نہ صرف اقتصادی تعلقات پر بات کریں گے بلکہ شام میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ روس کے موقع پر روسی حکام کے ساتھ بھی اس معاملے پر گفتگو کی تھی۔

اپنے خصوصی انٹرویو میں گابریئل کا کہنا تھا، ’’ہم ایسے ممالک کے ساتھ جو شام کی قاتلانہ جنگ میں ملوث ہیں، اپنے تعلقات میں معمول کے مطابق کاروبار کی طرف نہیں جا سکتے۔‘‘

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان گزشتہ برس ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایران کے خلاف لگائی گئی بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جرمن وزیر اقتصادیات اپنے اس دورے کے دوران جرمن کاروباری افراد کا ایک بڑا وفد بھی ساتھ لے کر جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ کاروباری امکانات پر بات چیت ہو سکے۔ گابریئل کے مطابق انہیں امید ہے کہ اس دورے کے دوران بعض معاہدوں پر دستخط بھی ہوں گے، تاہم انہوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

Russland Gabriel trifft Putin in Moskau (picture-alliance/dpa/I. Sekretarev/Pool)

زیگمار گابریئل نے اپنے حالیہ دورہ روس کے موقع پر روسی حکام کے ساتھ بھی شام کے معاملے پر گفتگو کی تھی

جرمن انڈسٹری ایران کے ساتھ طویل عرصے تک قائم رہنے والے کاروباری تعلقات کو ایک بار پھر استوار کرنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ تاہم جوہری معاہدے کے باوجود غیر یقینی صورتحال اور ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں موجود رہنے کی وجہ سے کاروباری تعلقات کی بحالی سست رفتار ہے۔

گابریئل کے مطابق ایران کے ساتھ انسانی حقوق کی صورتحال، آرمز کنٹرول اور  دیگر ایسے معاملات پر بات چیت بھی اہم ہے، جو برلن اور تہران کے درمیان تقسیم کی وجہ ہیں، ’’اور اس کا ایک حصہ شام کی صورتحال بھی ہے، جہاں ایران فیصلہ کُن کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘

جرمن نائب چانسلر اور وزیر اقتصادیات کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے امکانات کم ہیں، لیکن تہران کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں جرمنی اور دیگر یورپی ملکوں کے ساتھ طویل المیعاد کاروباری معاہدے کرنا مشکل ہے۔