1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا، امریکہ

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لئے کسی طرح کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے تہران حکام پر زور دیا کہ گرفتار امریکی ہائیکرز اور دیگر شہریوں کو غیرمشروط طور پر رہا کر دیا جائے۔

default

ہلیری کلنٹن کا یہ بیان ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حالیہ انٹرویو کا رد عمل ہے، جس میں انہوں نے قیدیوں کے تبادلے کے لئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا۔ احمدی نژاد کا یہ انٹرویو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر منگل کو نشر کیا گیا، جس میں انہوں نے ایران میں گرفتار امریکی ہائیکرز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کہ واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔

تاہم بدھ کو واشنگٹن میں بحرین کے اپنے ہم منصب شیخ خالد بن احمد الخلیفہ کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگو میں ہلیری کلنٹن نے تین ہائیکرز اور کم از کم دو دیگر امریکی شہریوں کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ دہرایا۔

Iran Präsident Mahmud Ahmadinedschad in Teheran

ایرانی صدر احمدی نزاد

امریکی وزیر خارجہ نے کہا، ’تہران اور واشنگٹن حکومتوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لئے مذاکرات نہیں ہو رہے۔۔۔ ایران کو چاہئے کہ امریکی شہریوں کو غیرمشروط طور پر رہا کر دے۔‘

انہوں نے امریکی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران میں گرفتار تمام امریکی شہریوں کو بلاتاخیر اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان شہریوں کی گرفتاریاں بلاجواز ہیں۔

قبل ازیں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان فلپ کرولے نے بھی ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا خیال مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سزایافتہ ایرانیوں کو ایران میں گرفتار امریکی شہریوں کے برابر نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن انتظامیہ قیدیوں کے تبادلے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ اپنے شہریوں کے خلاف مقدمات کا حل چاہتی ہے۔

کرولے نے کہا کہ واشنگٹن حکومت امریکی شہری رضا تغاوی اور کیان تاج بخش کی رہائی چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو FBI کے سابق ایجنٹ رابرٹ لیونسن کے بارے میں تشویش ہے، جو 2007ء میں دورہ ایران کے موقع پر لاپتہ ہو گئے تھے۔

تاہم کرولے اور کلنٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی حکومت اپنے ہاں گرفتار ایرانی شہریوں کے حوالے سے تہران کے سوالات کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔

ایران کا الزام ہے کہ اس کے 11شہری امریکہ میں غیرقانونی حراست میں ہیں، جن میں جوہری سائنسدان شاہرام امیری بھی شامل ہیں۔ تہران کے مطابق امیری گزشتہ برس مکہ سے لاپتہ ہو گئے تھے۔

خبررساں ادارے AFP کے مطابق متعدد امریکی شہری ایران میں قید ہیں، جن میں تین ہائیکرز سارہ شورڈ، جوش فیٹل اور شین باؤر بھی شامل ہیں۔ ان ہائیکرز کو گزشتہ برس 31 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ایران میں غیرقانونی داخلے کا الزام ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM