ایران کے خلاف پابندیاں آج اٹھائی جا سکتی ہیں، وزیر خارجہ | حالات حاضرہ | DW | 16.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے خلاف پابندیاں آج اٹھائی جا سکتی ہیں، وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ممکنہ طور پر آج ہفتے کو اٹھائی جا سکتی ہین۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اپنی ایک رپورٹ جاری کرنے کو ہے۔

ہفتے کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ ظریف نے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا خاتمہ آج ہی متوقع ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی IAEA ہفتے کو ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق اپنی ایک حتمی رپورٹ جاری کر رہی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا جائے گا کہ تہران حکومت گزشتہ برس جولائی میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دیگر اہم تیاریوں کے ساتھ ’عمل درآمد کا دن‘ شروع ہونا ہے اور اس کے جواب میں ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ طے ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں جواد ظریف نے کہا، ’’آج آئی اے ای اے کے سربراہ اپنی رپورٹ جاری کریں گے، جس میں باقاعدہ طور پر جوہری معاہدے پر عمل درآمد کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا، جس میں اس ڈیل کے باقاعدہ آغاز سے متعلق اعلان ہونا ہے۔‘‘

Atomgespräche in Wien abgeschlossen

گزشتہ برس ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا

اگر آج ہفتہ سولہ جنوری کو بین الاقوامی جوہری توانائی ادارہ اپنی رپورٹ جاری کرتا ہے، تو گزشتہ برس 14 جولائی کو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہو جائے گا۔ اس ڈیل کے تحت ایران کو اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے، جس کے جواب میں اس پر امریکا، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندیاں اٹھا لی جانا ہیں۔ اس طرح ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

ظریف کا اپنے بیان میں کہنا تھا، ’’آج ایرانی عوام کے لیے ایک اچھا دن ہے، کیوں کہ آج پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔‘‘

اپنے دورہ ویانا کے موقع پر ظریف امریکی وزیر خارجہ جان کیری، یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈیریکا موگیرینی اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔