ایران کے خلاف ٹرمپ کو ناکامی دیکھنا پڑے گی، خامنہ ای | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے خلاف ٹرمپ کو ناکامی دیکھنا پڑے گی، خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی صدر کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی جوہری ڈیل کو کئی مرتبہ ہدف تنقید بنا چکے ہیں۔

ایران کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی صدر نے جو معاندانہ پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے، وہ یقینی طور پر ناکامی سے ہمکنار ہو گی۔ خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ ایران سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے دور حکومت سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو چکا ہے۔

اسلامی عقائد کی خلاف ورزی، نرم رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ

حوثی باغیوں کے پاس بیلسٹک میزائل کیسے آئے؟

یمنی باغیوں کے لیے ایرانی میزائل: حوثیوں کی تردید

سعودی عرب سے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں، روحانی

خامنہ ای کا یہ بھی کہنا تھا کہ رونالڈ ریگن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ طاقتور اور ہوشیار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے اداکار بھی تھے کیونکہ انہیں دھمکیاں دینے کا فن خوب آتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف ریگن نے عملی اقدام کرتے ہوئے ایک ایرانی طیارہ مار گرایا تھا۔ خامنہ ای کے مطابق ریگن اب مر چکے ہیں اور اُن کے عقیدے کے مطابق وہ اپنے اعمال کے جواب دہ اللہ کے سامنے ہیں۔

USA - Präsident Trump - Jahresrückblick (Getty Images/AFP/S. Loeb)

خامنہ ای نے امریکی صدر کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی میں لائی جانے والی تبدیلی کی مذمت بھی کی

ایرانی لیڈر نے موجودہ ایران کو ریگن کے دور سے زیادہ طاقتور اور ہوشیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے ملک نے کئی شعبوں میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ سپریم لیڈر نے امید کا اظہار کیا کہ آج کی تہران حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی اپنی ترقی کا سفر جاری رکھے گی اور امریکی صدر کی ایسی کوششیں پوری نہیں ہوں گی کہ ایران اپنی ترقی کے راستے سے ہٹ جائے۔

آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے ملکی ٹیلی وژن پر تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی میں لائی جانے والی تبدیلی کی مذمت بھی کی۔ امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل تجربات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تہران حکومت کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ رواں برس اکتوبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری ڈیل کی سالانہ توثیق سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب اُن کے اس اقدام پر برطانیہ اور یورپی یونین نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جوہری ڈیل کا دفاع کیا تھا۔

DW.COM