1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بے نتیجہ ختم، عالمی طاقتیں مایوس

ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین دو روزہ مذکرات بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہو گئے ہیں۔ تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر ہونے والے یہ مذاکرات ترک شہر استنبول میں منعقد ہوئے۔

default

کیتھرین ایشٹن اور سعید جلیلی

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے تمام تر مجوزہ منصوبوں پر شرائط عائد کرنے کے لئے کہا ہے، جو ناقابل قبول ہیں۔ مذاکرات کے بعد استبول منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایشٹن نے کہا کہ اگرچہ تہران کے جوہری پروگرام پر مزید بات چیت کے لئے کوئی بھی ٹائم مقرر نہیں کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے عالمی طاقتوں کی طرف سے تمام دروازے کھلے ہیں۔

کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ وہ ان مذاکرات کے نتیجے پر مایوس ہیں اور ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو پر امن ثابت کرنے کے لئے سنیجدہ رویہ اختیار کرے۔

ایرانی مذاکرت کار سعید جلیلی نے کہا ہے کہ اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا جب تک عالمی طاقتیں ایران کے یورینیم افزدودہ کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتیں۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اس حوالے سے مزید مذاکرات کیے جائیں گے تاہم اس وقت تک کسی جگہ یا وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کی نمائندگی کیتھرین ایشٹن کر رہی تھیں جبکہ ایرانی وفد کی قیادت سعید جلیلی نے کی۔

Türkei Istanbul Atomgespräche Januar 2011

ایرانی مذاکرت کار سعید جلیلی نے کہا ہے کہ یورینیم افزودہ کرنے کا ایرانی حق تسلیم کیا جائے

ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ کیتھرین ایشٹن کی اس پیشکش کو بھی رد کر دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے ایران کو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ براہ راست مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

عالمی طاقتوں نے تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے لیے تجویز کیا تھاکہ ایرانی حکومت جوہری ایندھن کے تبادلے پر غور کرے۔ اس منصوبے کے تحت ایرانی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ افزدودہ یورینیم بیرون ملک روانہ کرے، جس کے بدلے میں اسے جوہری ری ایکٹر فراہم کیا جائے گا۔

اس منصوبے کا مقصد ایران کی طرف سے ایٹم بم بنانے کی مبینہ کوشش کو ناکام بنانا ہے۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ تہران حکومت ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ پر امن مقاصد کے لئے جوہری منصوبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترکی کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایران نے پہلے ہی شرائط عائد کر دی تھیں کہ اس پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور اس کی طرف سے یورینیم افزدوہ کرنے کے حق کو تسلیم کیا جائے۔

دوسری طرف سابق برطانوی وزیر اعظم اور مشرق وسطٰی کے لئے خصوصی مندوب ٹونی بلیئر نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کی ایران کے لئے پالسی ناکام ہو رہی ہے۔ اسی اثناء میں جمعہ کو امریکی سائنسدانوں کی ٹیم نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران ایران نے ایٹم بم بنانے کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM