1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کے ایٹمی تنازعے کے حل کے لئےترکی ثالثی پر تیار

ایک طرف جہاں مغربی ممالک ایران کے جوہری منصوبوں کے باعث اس پر پابندیاں سخت کرنے کی تاک میں ہیں، وہاں دوسری طرف ترک حکومت تہران کے ایٹمی تنازعے کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

default

ایرانی وزیر خارجہ اپنے ترک ہم منصب کے ہمراہ

ترک وزیر خارجہ احمد دعوتگلو نے منگل کو ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ بات چیت کے بعد واضح طور پر یہ اشارہ دیا کہ انقرہ حکومت جوہری تنازعے کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

IAEA in Wien

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کا دفتر ویانا کی اسی عمارت کے اندر قائم ہے

احمد دعوتگلو نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ ایٹمی تنازعے کا حل سفارتکاری میں ہے۔’’ترکی ثالث بننے کے لئے تیار ہے اور اسے یقین ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا تنازعہ حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ترک وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایرانی ہم منصب منوچہر متقی کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وہ امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ اور ایرانی حکومت کو ایک دوسرے کی آراء سے باخبر رکھنے کے لئے بھی تیار ہیں۔

امریکہ اور اس کے حلیف ملک اس کوشش میں ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران کے خلاف ایک اور قرار داد منظور کروائی جائے تاکہ تہران پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکیں۔ مغربی ملکوں کی دھمکیوں کے باوجود تہران حکومت یورینیئم کی افزودگی روکنے اور افزودہ یورینیئم کے تبادلے سے مسلسل انکار کرتی چلی آ رہی ہے۔

Ahmadinejad mit Uran Zentrifugen

ایرانی صدر احمدی نژاد ملک کے ایک جوہری پلانٹ کا معائنہ کرتے ہوئے

گزشتہ برس اکتوبر میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے توسط سے ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق ایران کو اپنا یورینئیم مزید افزودگی کے لئے پہلے روس بھیجنا تھا، جس کے بعد فرانس میں یورینیئم کو ایندھن میں تبدیل کرنے کا عمل پورا ہوتا۔ تہران حکومت کا موقف تھا کہ وہ کسی ایسے معاہدے کے لئے اُسی صورت میں راضی ہوگی، جب یورینیئم کا تبادلہ ایرانی سرزمین پر ہو۔ ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور عالمی طاقتوں نے ایران کی اس شرط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ایران اور مغرب کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔

دریں اثناء ترکی کی طرح ہی چین نے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کے تنازعے کے حل کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ مغربی ملکوں کی طرف سے تہران پر پابندیاں مزید سخت کرنے کے بیانات میں شدت کے باوجود چینی وزارت خارجہ نے منگل کے روز کہا کہ اب بھی گفت و شنید کے لئے راستہ کھلا ہے۔ چین ان چھ ملکوں میں شامل ہے، جو ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور اسے ویٹو کا حق حاصل ہے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اسرائیل سمیت کئی اور ملکوں کا ماننا ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ تہران حکومت کا موٴقف ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام ہر لحاظ سے پُرامن مقاصد کے لئے ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: اَمجد علی

DW.COM