1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کی مغربی طاقتوں کو سخت سبق سکھانے کی دھمکی

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری پروگرام کی پاداش میں اس کے ہاں سے تیل کی برآمدات کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا تو تہران حکومت اسٹریٹیجک اعتبار سے انتہائی اہم آبنائے ھرمز بند کر دے گی۔

default

آبنائے ھرمز خیلج فارس سے تیل کی ترسیل کی واحد اور تنگ سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر قریب 16 ملین بیرل تیل خلیجی ریاستوں سے بیرون ملک سپلائی کیا جاتا ہے۔ ایرانی نائب صدر محمد رضا رحیمی کے بقول اگر تہران سے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو آبنائے ھرمز کے راستے ایک قطرہ تیل بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ محمد رضا رحیمی کا یہ بیان سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے جاری کیا ہے۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے مابین 8 نومبر کے بعد سے تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے جب اقوام متحدہ کے جوہری ادارے نے اپنی رپورٹ میں ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی تیاریاں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ تہران حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور 2006ء سے اب تک چار بار مختلف طرز کی پابندیوں کے باوجود یورینیم کی افزودگی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

Karte Iran

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بین الاقوامی امور کے بہت سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کی معیشت کے لیے شہ رگ کی حامل تیل کی صنعت کو نشانہ بنایا گیا تو تہران حکومت پر حقیقی چوٹ پڑے گی۔ اقوام متحدہ کے تحت ان پابندیوں کی راہ میں سلامتی کونسل کے دو مستقل رکن ملکوں چین اور روس کو بڑی رکاوٹ خیال کیا جاتا ہے۔ان دو ممالک کے ایران کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ نے ایرانی نائب صدر کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے خواہ مخواہ کی ایک بڑھک قرار دیا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر کے مطابق ایران اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے جان چھڑا رہا ہے اور حالیہ بیان بھی اسی معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ایرانی نائب صدر کے بیان کے ساتھ ہی ایرانی بحریہ نے آبنائے ھرمز میں دس روزہ مشقیں شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا، ’’ہمارے دشمن اپنے منصوبے اس وقت ترک کر دیں گے جب ہم انہیں کڑا اور سخت سبق سکھا دیں گے۔‘‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM