1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کی جوہری سرگرمی پر آئی اے ای اے کی تشویش

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی آئی اے ای اے نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایران ممکنہ طور پر نیوکلیئر ہتھیار بنا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ بات اس ادارے کی ایک خفیہ رپورٹ کے حوالے سے بتائی ہے۔

default

روئٹرز کا کہنا ہے کہ اسے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کی ایک رپورٹ ملی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تیاری کے لیے جاری سرگرمی پر اس کی تشویش بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے مسلسل ایسی معلومات موصول ہو رہی ہیں، جو اس تشویش میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی اے ای اے کو مختلف ملکوں اور اپنے ذرائع سے معلومات موصول ہوئی ہیں، جو تکنیکی تفصیلات، سرگرمی (ہتھیاروں کی تیاری کی) کے نظام الاوقات  کے حوالے سے بڑی حد تک قابلِ اعتبار ہیں۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ باتیں آئی اے ای اے کی تازہ سہ ماہی معائنہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں اور ان سے ایران کی جوہری سرگرمی کے حوالے سے مغربی شکوک کو ہوا مل سکتی ہے۔

Iran Energie Atomkraftwerk Inbetriebnahme Atomreaktor Buschehr

ایران اپنے ایٹمی پروگرام کا مقصد پرامن قرار دیتا ہے

مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم تہران حکام کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لئے ہے۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ اس منصوبے کا مقصد بجلی پیدا کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ملکی تیل و گیس برآمد کی جا سکے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ایران پر پابندیاں سخت بنانے کے لیے مزید دلائل حاصل ہو سکتے ہیں۔

امریکہ میں قائم تھِنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس و انٹرنیشنل سکیورٹی نے اس حوالے سے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری تعلق پر تشویش ظاہر کرنے کے لیے ’سخت زبان‘ استعمال کی ہے۔

آئی اے ای اے میں ایرن کے مندوب علی اصغر نے اسے ایران کے پروگرام کے خلاف ’بے بنیاد الزامات‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس