1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کی ایٹمی توانائی کے ادارے سے تعاون پر نظر ثانی

ایرانی خبر رساں اداے 'فارس' کے مطابق ایرانی پارلیمان بین الاقوامی ایٹمی توانانی ایجنسی IAEA کے ساتھ تعاون مزید کم کرنے کےمعاملے پر غور کررہی ہے۔

default

علی اکبر صالیحٰی فائل ۔فوٹو

ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر حامی رضا فولادگر نے ’فارس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں بل کل اتوار کے روز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے ردعمل کے طور پر اقوام متحدہ کے جوہری توانائی سے متعلق ادارے IAEA کے ساتھ تعاون پر نظرثانی اور اسے کم کرنے کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔

دوسری طرف ایرانی نائب صدر علی اکبر صالحی نے سرکاری خبر رساں ادارے IRNA کو آج ہفتے کے روز بتایا کہ مستقبل میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ تعاون کے معاملے پر صدر احمدی نژاد سے صلاح ومشورہ کیا جائے گا۔ تاہم صدر احمدی نژاد کی طرف سے یہ بیان تو کئی مرتبہ سامنے آچکا ہے کہ پابندیوں کی صورت میں عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ترک کردیا جائے گا مگر انہوں نے IAEA کے ساتھ تعاون کے معاملے پر کبھی بات نہیں کی۔

دوسری طرف برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق سعودی عرب نے نہ صرف اسرائیلی طیاروں کو ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے لئے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے بلکہ اس سلسلے میں سعودی فضائی حدود کے اندر دفاعی نظام کو غیر فعال کرنے کی مشقیں بھی کی ہیں، تاکہ اسرائیلی طیارے بغیر نقصان کے اس کی فضائی حدود میں پرواز کرسکیں۔ سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے اسرائیلی طیاروں کو ایران تک پہنچنے کے لئے بہت کم فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔

UN Sicherheitsrat Iran No Flash

سلامتی کونسل کی جانب سے بدھ نو جون کو ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی قرار داد منطور کی گئی

دی ٹائمز نے علاقے میں موجود ایک امریکی دفاعی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی حکومت اس سلسلے میں اپنی رضامندی کا اظہار کرچکی ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ مشقیں کی گئی ہیں کہ ایسی صورت میں اسرائیلی طیاروں کے علاوہ اس کے اپنے طیاروں کو بھی کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ مزید یہ کہ یہ سب کچھ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رضامندی سے کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے، جو ایران کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے، بوقت ضرورت ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کو کبھی بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ دی ٹائمز کے مطابق سعودی عرب بھی ایران کو علاقائی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے لئے اس نے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی مبینہ اجازت دی ہے۔

دوسری طرف اخبار نے سعودی عرب میں موجود اپنے ایک ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی دفاعی حلقوں میں یہ حقیقت پہلے سے ہی عیاں ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت : شادی خان سیف