1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کی اقتصادی مشکلات کم نہیں ہوئیں

ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والی ڈیل کا ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ امید کی گئی تھی کہ جوہری ڈیل کے بعد ایران کو اقتصادی مسائل سے چھٹکارا حاصل ہو سکے گا لیکن ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہوا ہے۔

جوہری ڈیل پر ایران میں عام لوگوں نے کھلے عام مسرت کا اظہار کیا تھا اور سبھی کا خیال تھا کہ ایران کی عالمی تنہائی کے علاوہ اسے درپیش اقتصادی مسائل سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا لیکن تقریباً ایک سال بعد ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سب کچھ ابھی تک ادھورا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی رکاوٹیں ایرانی اقتصادیات کی افزائش میں حائل ہیں۔

کئی پابندیاں بظاہر ختم ہوچکی ہیں لیکن انٹرنیشنل بینکنگ سسٹم ابھی تک ایران کے ساتھ کاروباری معاملات کو آگے بڑھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ایران کے اندر صدر حسن روحانی کو بھی ملک کے اندر تنقید کا سامنا ہے کہ اُن کے اعلانات کے مطابق ایرانی اقتصادیات کی ترقی ویسی نہیں سامنے آئی ہے، جیسی وہ بیان کرتے رہے ہیں۔ ان ناقدین میں ایران کا قدامت پسند حلقہ بھی شامل ہے، جو مغرب سے تعلقات کو بہتر بنانے کا مخالف ہے۔

ایک ایرانی سفارت کار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا ایران نے اپنا حصے کا کام مکمل کر دیا ہے، اب رکاوٹیں امریکا کی جانب سے ہیں اور اِس مناسبت سے امریکا کے یورپی حلیف واشنگٹن حکومت پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ ایران پر باقی ماندہ پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کرے۔ مبصرین بھی اِن پیچیدگیوں کا حل واشنگٹن میں ہی دیکھتے ہیں۔

Iran Hassan Ruhani

ایرانی صدر حسن روحانی

ایرانی سفارت کار نے یہ بھی کہا کہ امریکا میں بعض سیاستدانوں نے ایرانی جوہری ڈیل کو سمجھا ہے اور نہ ہی اُسے تسلیم کیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ چودہ جولائی سن 2015 کو طے پانے والی ڈیل کے مؤثر ہونے کا اعلان رواں برس جنوری میں اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ڈیل مؤثر ہونے کے امریکی اعلان کے باوجود بعض بنیادی پابندیوں کے خاتمے کا واشنگٹن حکومت نے ابھی فیصلہ کرنا ہے۔

معاشی ماہرین کا متفقہ طور پر کہنا ہے کہ ڈیل کے بعد ایران میں ملازمت کرنا آسان ہو گیا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی مالی پیچیگیاں بدستور باقی ہیں۔ ڈیل کے مؤثر ہونے کے بعد صدر حسن روحانی کی اگلے تین چار سالوں میں ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے خواب بھی نامکمل دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک ایرانی کار ساز کمپنی کے ساتھ فرانسیسی کار میکر ادارے پیژو سِٹروئن نے ایران میں 400 ملین یورو کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے جو حوصلہ افزا تو ہے لیکن یہ ناکافی محسوس کیا گیا ہے۔ تہران کے سیاسی تجزیہ کار عامر محبیان کا کہنا ہے کہ تاریخ نے یہ سبق سکھایا ہے کہ امریکا پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔

DW.COM