1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کو پُرامن ایٹمی توانائی کا حق حاصل ہے، بھارت

بھارت نے کہا ہے کہ ایران کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی برادری کو نئے سرے سے یقین دلائے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

default

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو

اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر ہردیپ سنگھ پوری نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں کہا کہ بھارت کا موقف ہے کہ ایران کو سول مقاصد کے لیے اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں ایران کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کی صورتحال پربحث کی جا رہی تھی۔

بھارتی سفیر کے مطابق ایران کو پر امن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔ ہر دیپ سنگھ پوری نے یہ بھی کہا کہ تہران حکومت کو بین الاقوامی برادری کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے اسے یقین دلانا چاہیے کہ ایرانی کی ایٹمی سرگرمیاں صرف اور صرف پُرامن توانائی کے حصول کے لیے ہیں۔ اس اجلاس کی صدارت اقوام متحدہ میں کولمبیا کے سفیر نیسٹر اوسوریو نے کی جو سلامتی کونسل کی ایران سے متعلق پانبدیوں کے بارے میں کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

Iran Energie Atomkraftwerk Inbetriebnahme Atomreaktor Buschehr

بوشہر کا ایرانی ایٹمی بجلی گھر

کولمبیا کے سفیر نے سلامتی کونسل کی کمیٹی کو بتایا کہ ایران مبینہ طور پر اپنی ایٹمی تنصیبات میں ایٹمی مادوں کے حوالے سے پابندیوں میں درج شرائط کی دو مرتبہ خلاف ورزی کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی جانب سے اس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ بڑی تشویش کا باعث ہے۔

ایرانی ایٹمی پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو نے اسی ماہ کہا تھا کہ ایران آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔ امانو کے مطابق تہران حکومت اس بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ ضروری تعاون نہیں کر رہی جس کے نتیجے میں ثابت ہو سکے کہ ایران کا متنازعہ ایٹمی پروگرام صرف پر امن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہے۔

یوکیا امانو نےتہران کے بارے میں یہ شکایت IAEA کے بورڈ آف گورنر کے ایک اجلاس میں کی تھی۔ اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر ہردیپ سنگھ پوری کے مطابق ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں خدشات اور عدم اطمینان کو جلد از جلد دور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسا صرف پرامن ذرائع اور مکالمت کےذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس