1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کو دی گئی مہلت جلد ختم ہو رہی ہے: اوباما

سنگاپور میں ایشیا پیسفک اقتصادی فورم کے موقع پر اوباما اور میدویدیف کے ساتھ ملاقات میں بات چیت کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے دونوں لیڈروں کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے سفارتی حل کاوقت اب تیزی سے خاتمے کی طرف جا رہا ہے۔ یہ بیان انہوں نے اتوار کو سنگاپور منعقدہ ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون کے دوروزہ اجلاس کے موقع پر اپنے روسی ہم منصب دیمیتری میدویدیف کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا۔ تاہم روسی صدر کی تہران حکومت پر تنقید نسبتاً نرم لہجے میں تھی۔

حال ہی میں ایک امریکی سفارت کار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ امریکہ کی خواہش رہی ہے کہ وہ ایران کو بھرپور موقع فراہم کرے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں پائی جانے والی تشویش کو دور کرنے کے لئے امریکہ کی ثالثی میں تیار کی جانے والی ڈیل کو بروئے کار لائے‘۔

Solana unterbreitet Iran im Atomstreit neues Verhandlungsangebot

ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی اور یورپی یونین کے خارجہ امور کے چیف خاویئر سولانہ: فائل فوٹو

اوباما نے میدویدیف کے ساتھ مذاکرات میں کہا کہ امریکہ کے صبر کی اب انتہاء ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں وقت اب تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس روسی صدر نے اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ’ اگر ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بحران سے متعلق بحث کا کوئی حل نہیں نکلتا تو دیگر طریقہ کار اور ذرائعے کا استعمال کیا جانا چاہئے‘۔ تاہم میدویدیف نے ان طریقہ کار اور ذرائعے کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ میدویدیف نے مزید کہا’ اس مسئلے کے حل کی مشترکہ کوششوں کا شکریہ، تاہم اس کی رفتار سے ہم مکمل طور پر خوش نہیں ہیں۔ اگر کوئی کام کامیاب نہ ہو تو اس کے حل کے لئے دوسری تدابیر کو اختیار کیا جانا چاہیے، ہمارا مقصد واضح ہے۔ ایران کا ایک شفاف ایٹمی پروگرام ہو نہ کہ ایک ایسی جوہری پالیسی پر مبنیجو ہر کسی کی تشویش اور پریشانی کا باعث ہو‘۔

یکم اکتوبر کو جینیوا میں ہونے والے 6 فریقی مذاکرات میں ایران نے اپنے کم افزودگی والے یورینیم کو بھاری مقدار میں اس کی مزید پروسیسنگ کے ذریعے یورینیم کو ’فیول پلیٹس‘ میں تبدیل کرنے کے عمل سے گزارنے کے لئے روس اور فرانس بھیجنے پر آمادگی کا اظہاراصولی طور پر کر دیا تھا۔ اس کا انکشاف مغربی طاقتوں کے ذرائع سے ہوا تھا۔

Atomgespräche Genf Dschalili Solana Burns

ایران اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات کا عمل: فائل فوٹو

پلان کے مطابق ایران کوایٹمی دھماکہ خیز مادوں کی مبینہ تیاری سے روکنے کے لئے ایسے متبادل ایندھن دینے کی بات تھی جس کی مدد سے ایران اپنے ایک علاج معالجے کے لئے وقف نیوکلئیر ری ایکٹرکی تنصیب کا کام جاری رکھ سکے۔ تاہم تہران حکومت کی طرف سے اس بارے میں حتمی فیصلے سے قبل مزید بات چیت اور اس میں رد وبدل کے مطالبہ نے واشنگٹن میں بے چینی پیدا کردی اور امریکی انتظامیہ نے ایران کے اس مطالبے کو رد کردیا۔

ایران کی طرف سے جینیوا میں کئے گئے وعدوں کے بدلے میں اس پر مغربی طاقتوں کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں، خاص طور سے اسکے تیل کے شعبے سے متعلق پابندیوں کے حوالے سے مغرب کے رویے میں کسی حد تک لچک پیدا ہوئی تھی۔ تاہم ایران کو انتباہ کر دیا گیا تھا کہ غیر معینہ مدت تک مغربی طاقتیں اس کے حتمی اقدامات کا انتظار نہیں کریں گی۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق واشنگٹن نے ماسکو پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے جلد کسی ٹھوس قدم نہ اٹھانے کی صورت میں ماسکو حکومت کی جانب سے تہران حکومت کو کھلے عام سینکشنز یا پابندیوں کی دھمکی دی جائے۔ ایران اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ تہران کا جوہری پروگرام سول مقاصد کے لئے ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت : عابد حسین