1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربے

ایران نے اتوار کو کم فاصلے تک مار کرنے والے دو میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔ تہران حکام کے مطابق پیر کو ایک دُور مار میزائل کا تجربہ کیا جائے گا۔

default

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اتوار کو تجربہ کئے گئے میزائل فتح اور تندر170 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

Österreich Iran Atom Sitzung der IAEA in Wien Ali Asghar Soltanijeh

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے لئے ایران کے سفیر علی اصغر

پیر کو دُور مار میزائل شہاب سوم کا تجربہ بھی کیا جائے گا، جس کی رینج دوہزار کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ اس ایرانی میزائل کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے میزائلوں کے یہ تجربے ایسے وقت کئے گئے جب یکم اکتوبر کو وہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کرنے والا ہے۔ یہ مذاکرات جنیوا ہوں گے۔ دوسری جانب میزائل تجربوں سے قبل ایران کی جانب سے ایک نئے ایٹمی پلانٹ کی تعمیر کا انکشاف بھی ہوا، جس کے بعد مغرب کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

تاہم جوہری توانائی کے عالمی ادارے IAEA کے لئے ایران کے سفیر علی اصغر کا کہنا ہے کہ تہران کے نئے ایٹمی پلانٹ کے بارے میں مغرب کی تشویش جنیوا مذاکرات پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

دوسری جانب گزشتہ روز ایران نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے IAEA کو یورینیئم کی افزودگی کے اپنے نئے پلانٹ کی معائنے کی اجازت دے دی۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے تہران حکومت کے اس فیصلئے کا خیر مقدم کیا۔

Flash-Galerie Afrikareise Hillary Clinton

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر نے سرکاری ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں احمدی نژاد کے بیان کو دہرایا کہ تہران حکومت کو مقررہ ضوابط کے تحت معائنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایٹمی توانائی کے اس ادارے کے ساتھ بات چیت کے بعد معائنہ کاروں کے دورے کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔

اُدھر آج کے میزائل تجربوں کے حوالے سے ایرانی جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ یہ ایران پر حملے کا ارادہ رکھنے والوں کے لئے پیغام ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM