1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ایران کا 2019ء میں انسان بردار پرواز خلا میں بھیجنے کا عزم

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے جمعہ کے دن کہا ہے کہ ان کا ملک سال 2019ء تک انسان بردار پرواز خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

default

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا ہے، " ایران سال 2024ء تک انسان بردار پرواز خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں کے ردعمل میں اس منصوبے کو پانچ سال قبل ہی مکمل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اب منصوبہ سال 2019ء میں مکمل کیا جائے گا۔"

ایران جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کی زد میں ہے، اپنے خلائی پروگرام پر کافی عرصے سے کام کررہا ہے۔ جس میں راکٹ تجربات کے علاوہ مصنوعی سیاروں کی تیاری شامل ہے۔

Iran Raumfahrt Rakete gestartet Mahmud Ahmadinedschad

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد

رواں برس فروری میں ایران نے ملکی سطح پر تیار کردہ ایک سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا تھا، جس میں ایک چوہا، کچھوا اور دیگر حشرات موجود تھے۔ جبکہ ایران کے وزیر مواصلات رضا تاغیپور نے اس ماہ اعلان کیا تھا کہ ایران اگست کے آخری ہفتے میں ایک نیا سیٹلائٹ 'رساد ون' خلا میں روانہ کرے گا۔

تاغیپور کے مطابق سال 2011ء کے دوران ایک ایسا مصنوعی سیارہ بھی خلا میں روانہ کیا جائے گا جو تصاویر سمیت دیگر ڈیٹا بھیجنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔

مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران کے جوہری اور خلائی پروگرام کا مقصد ایٹمی ہھتیاروں کی تیاری ہے جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔ ایران کے متنازعے جوہری پروگرام کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ امریکہ نے بھی اضافی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کی جانب سے اضافی پابندیوں کا فیصلہ 26 جولائی کو کیا جارہا ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM