1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا مسافر طیارہ تباہ، 70 افراد ہلاک

ایران کا ایک مسافر طیارہ تباہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ طیارے میں ایک سو سے زائد افراد سوار تھے۔ ایرانی ہلالِ احمر نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

default

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے Irna نے ملکی ہلال احمر کے سربراہ حیدر حیدری کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حادثے میں 32 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’اس حادثے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ قبل ازیں ملنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ 50 افراد بچ گئے ہیں۔

ایران ایئر کا یہ طیارہ دارالحکومت تہران سے شمال مغربی شہر ارومیه کے لئے روانہ ہوا تھا، تاہم منزل کے قریب پہنچنے پر یہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ علاقہ تہران سے سات سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حادثہ اتوار کو عالمی وقت کے مطابق شام سوا چار بجے پیش آیا۔

ایران ایئر کے مطابق طیارے میں 106 افراد سوار تھے، جن میں سے عملے کے ارکان کی تعداد بارہ تھی۔ ایئرلائن ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافروں میں تین بچے بھی شامل تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ پرواز مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے اُڑی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ موسم کی خرابی اس حادثے کا سبب بنی ہے جبکہ برفباری کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔

Karte Iran und Nachbarstaaten Artikelbild

یہ طیارہ تہران سے روانہ ہوا تھا

ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی ایمرجنسی سروسز کے سربراہ غلام رضا معصومی کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں جہاز گرا، وہاں شدید برفباری ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مسائل کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں 27 انچ برف پڑی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ایرانی طیاروں کو گاہے بگاہے حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے پہلے وہاں بڑا فضائی حادثہ جولائی 2009ء میں ہوا تھا، جب ایک طیارے میں دورانِ پرواز آگ لگ گئی تھی۔ وہ طیارہ ایران کے شمالی علاقے میں گر گیا تھا، جس کے نتیجے میں 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2003ء میں ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں عسکری جہاز تباہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں عملے سمیت 276 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس