1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا متنازعہ جوہری پروگرام، دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے

ایران کی طرف سے ایک تازہ پیغام میں کیا گیا ہے کہ وہ مغربی دنیا کے ساتھ اپنے ہاں یورینیم کی درآمد پر بھی بات کرنا چاہتا ہے۔ مغربی ملک اس تجویز سے ہرگز خوش نہیں ہوں گے۔

default

ایرانی ایٹمی پروگرام کے بارے میں تہران کا بین الاقوامی برادری کے ساتھ تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ چند روز پہلے تک مغربی طاقتوں نے تہران کو مشورہ دیا تھا کہ وہ چاہے تو اپنا یورینیم افزودگی کے ئلے اب یرون ملک بھجوا سکتا ہے۔

ایرانی حکام اور مغربی دنیا کے نمائندوں کے مابین ایٹمی تنازعے میں کافی زیادہ ذہنی ہم آہنگی نظر آ رہی تھی۔ اب اعلیٰ ایرانی سفارت کاروں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ چھ کے گروپ کے ساتھ مزید بات چیت کرنا چاہتے ہیں، تاکہ یہ جائزہ بھی لیا جا سکے کہ آیا ایران کو آئندہ اپنے یورینیم کو بیرون ملک افزودہ کروانے کی بجائے، اپنے ہاں یورینیم درآمد کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔

Karte - Iran, Russland, Frankreich - Lösung im iranischen Atomprogramm

ایران کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنی کم افزودہ یورینیم فرانس یا روس بھجوا سکتا ہے

ماہرین کو یقین ہے کہ مغربی ملک اس تجویز پر خوش نہیں ہوں گے۔ اس کا ایک ثبوت یہ کہ اس بارے میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے یہ کہا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی تنازعے کے حل کے لئے عالمی طاقتوں کی پیشکشں تبدیل نہیں کی جائے گی۔

ہلیری کلنٹن کے مطابق تہران کے لئے یہ ایک انتہائی اہم موقع ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ یورینیم کی بیرون ملک افزودگی کی پیشکش سے متعلق سمجھوتے پر راضی ہو جائے۔ مغربی ملک اس پیشکش کے ذریعے یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہو سکنے والا افزودہ یورینیم دستیاب نہ ہو۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادئی کہتے ہیں: "ایران کی اُس کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مستقبل کی سوچ کے بارے میں بین الااقوامی برادری کے خدشات دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فریقین کے مابین اعتماد میں اضافہ ہو۔ اس اعتماد سازی کا واحد راستہ مکالمت ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ایران میری پیش کردہ اُن تجاویز پر مثبت رد عمل کا مظاہرہ کرے، جو امریکہ، روس اور فرانس کے مشورے سے پیش کی گئی تھیں۔"

ایران کا حتمی رد عمل اگر مغربی طاقتوں کی توقعات کے برعکس ہوا، تو پھر چھ کے گروپ کی سوچ کیا ہوگی؟ اس بارے میں فرانسیسی وزیر خارجہ بیرنارڈ کُوشنَیر کہتے ہیں: "ہم جواب کے انتظار میں ہیں۔ اگر ایران کا جواب اُسے پیش کردہ مصالحتی حل کے تقاضوں کے برعکس ہوا، اور تہران نے بہانے سے مزید مہلت حاصل کرنے کی کوشش کی، تو ہم ایسا کوئی بھی جواب قبول نہیں کر یں گے۔"

محمد البرادئی کے تجویز کردہ حل کے مطابق ایران اپنی جوہری تنصیبات میں استعمال کے لئے، اپنا قریب 1200 کلو گرام غیر افزودہ یورینیم اس سال کے آخر تک افزودگی کے لئے روس بھجوا سکتا ہے۔

رپورٹ : عصمت جبین

ادارت : مقبول ملک