1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ایران کا شام میں بڑھتا کردار مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک ہے‘

اسرائیل کے وزیراعظم نے آج روسی صدر پوٹن کے ساتھ بحیرہ اسود کے کنارے پر واقع شہر سوچی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں نیتن یاہو نے پوٹن پر واضح کیا کہ شام کے اندر بڑھتا ایرانی کردار مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے لیے خطرناک ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے روسی صدر کو بتایا کہ عالمی برادری کی مشترکہ حکمت عملی اور کوششوں سے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا خاتمہ تو کیا جا رہا ہے لیکن اُس کی جگہ پر اب ایران نے نمودار ہونا شروع کر دیا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے علاوہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی اثر و رسوخ واضح طور پر یمن اور لبنان میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مغربی ممالک کی سازش ناکام بنا دی ہے، شامی صدر اسد

امریکی پالیسیوں کے جواب میں ڈیل سے علیحدہ ہو سکتے ہیں، ایران

ایران امریکا کشیدگی: تہران اپنے میزائل تجربات جاری رکھے گا

 نیتن یاہو نے بحیرہ اسود کے کنارے پر واقع روس کے اہم بندرگاہی و سیاحتی  شہر سوچی میں صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران سے متعلق اپنے خدشات کا بھرپور اظہار کیا۔ نیتن یاہو نے ان خدشات کے اظہار میں یہ بھی کہا کہ اس بات کو ایک لمحے کے لیے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کو تباہ و برباد کیے جانے کی دھمکیاں روزانہ کی بنیاد پر دی جاتی ہیں اور یہ کسی بھی طور پر تعمیری و مثبت عمل نہیں ہے۔ نیتن یاہو کے بقول ایران پہلے ہی عراق کو اپنی نگرانی میں لے چکا ہے۔

Iran Teheran Militärparade mit Raketen (picture-alliance/dpa/A. Taherkenareh)

ایرانی فوج کی پریڈ میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا بھاری اسلحہ

روسی صدر نے اس ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اسرائیلی وزیراعظم کے ایران کے حوالے سے بیان کیے گئے خدشات و احساسات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ یہ امر اہم ہے کہ ایران مسلسل اس کی تردید کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ لبنان کی حزب اللہ کو بھی روسی مدد ایران کے توسط سے حاصل ہے۔

ماسکو کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُس کی فوجی قوت کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران یا حزب اللہ کسی بھی طور پر اسرائیل کے خلاف نیا جنگی محاذ نہیں کھولیں گے۔ شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت روس اور ایران کھل کر کرتے ہیں۔

DW.COM