1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا جوہری پروگرام روکا نہیں جا سکتا، احمدی نژاد

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ عالمی دباؤ سے تہران حکومت کا جوہری منصوبہ مزید پختہ ہی ہوگا۔ انہوں نے ہفتہ کو عالمی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔

default

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد

Ali Akbar Salehi

ایران کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی

احمدی نژاد کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب سلامتی کونسل کے مستقل ارکان تہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ایرانی صدر احمدی نژاد نے ہفتہ کو ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی گئی تقریر میں کہا کہ عالمی طاقتیں اپنا ہی گلا کاٹ سکتی ہیں، اچھل کود کر سکتی ہیں، اعلامئے جاری کر سکتی ہیں اور قراردادیں منظور کر سکتی ہیں، لیکن ایٹمی پروگرام کی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف دشمنی جیسے جیسے کھل کر سامنے آئی گے، ایرانی قوم اسی تیز رفتاری سے آگے بڑے گی۔

احمدی نژاد نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ تہران ریسرچ ری ایکٹر کے لئے ایران نے جوہری ایندھن خود بنانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران حکومت نےعالمی طاقتوں کی جانب سے ایندھن نہ دیے جانے کے بعد ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT کے قانون کے تحت ایران کو ایندھن فراہم کیا جانا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

ایران کو جوہری ایندھن کی فراہمی اور اس کی جانب سے 20 فیصد سطح تک یورینیئم کی افزودگی شروع کرنے کے اعلان پر تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے مابین نیا تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔

ابھی جمعہ کو امریکی صدر باراک اوباما نے ایران پر ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے لئے عالمی دباؤ بڑھانے کے لئے کوششیں تیز کرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا، تمام شواہد سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ تہران حکومت ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس پر مشتمل سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی ایران کے خلاف نئی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم چین ابھی تک ان پابندیوں کی مخالفت کر رہا ہے۔ بیجنگ حکام اس مسئلے کے سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔

عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام کے ذریعے جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم تہران حکام کا مؤقف ہے کہ ان کا جوہری منصوبہ پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

Flash-Galerie Geschichte Friedensbewegung Ostermarsch

امریکی صدر باراک اوباما

دوسری جانب ایران کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ یورینیئم کی افزودگی کے لئے دو نئے پلانٹس کے منصوبے صدر کو پیش کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے پلانٹس کی تعمیر کا کام رواں برس کسی وقت شروع ہو سکتا ہے۔ صالحی نے بتایا کہ یہ پلانٹس ملک کے مختلف علاقوں میں قائم کئے جائیں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM