1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا جوہری پروگرام اور عالمی برادری کی تشویش

ایران کی جانب سے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم سوالات کے جواب سے انکار پر عالمی برادری کی تشویش میں مزید اضافہ سامنے آیا ہے۔ جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری پہلوؤں کے کئی نکات کا جواب تہران حکومت کو ابھی دینا ہے۔

default

ایرانی صدر ایک جوہری مرکز کے دورے پر: فائل فوٹو

دو روز قبل ایران حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کے عمل کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اعلان پر امریکہ سمیت، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ان ممالک نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں اپنے خدشات کو شامل کیا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران مسلسل سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پرعمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ اٹامک ایجنسی کے بورڈ آف گورنز کی قراردادوں کو بھی وہ مسلسل نظر انداز کر رہا ہے، اب تہران حکومت کے نئے اعلان کے بعد بین الاقوامی کمیونٹی کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

Fereydoon Abbasi

ایرانی جوہری ایجنسی کے سربراہ فریدون عباسی: فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ یوکیو امانو کی جانب سے ایک خط ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ کو تحریر کیا گیا ہے اور اس میں 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کی تشوش کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی خط میں خاص طور پر ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے عسکری پہلوؤں پر سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کی جانب سے بھی خدشات شامل کیے گئے ہیں۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے میں امریکی سفیر گلین ڈیویز نے ایران حکومت کے اس تازہ بیان کی مذمت کی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی استعداد کو تین گنا بڑھانے لگا ہے اور ڈیویز کے مطابق یہ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ ڈیویز کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیا اعلان بھی تہران حکومت کی جانب سے عالمی ادارے کی قراردادوں کو نظر انداز کرنے کا ایک انداز ہے۔

پچھلے بدھ کے روز ایران کی جوہری ایجنسی کے سربراہ فریدون عباسی دیوانی نے اعلان کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی یورینیم افزودگی کی پیدوار کو بیس فیصد بڑھانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں افزودگی کا عمل اب ایک دوسرے مقام فردو منتقل کردیا گیا ہے۔ فردو کا مقام ایران کے مشہوری مذہبی اہمیت کے شہر قم کے نزدیک واقع پہاڑی علاقے کے بیچ میں ہے۔ یہ دارالحکومت تہران سے جنوب مغرب میں ڈیڑھ سو کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس