1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا جوہری تنازعہ اور امریکہ-اسرائیل تعلقات

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تہران حکومت کے سرد ردعمل کے باوجود، امریکہ کے ایران کے ساتھ، اس کے متنازعہ ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات ضروری ہیں۔

default

ایران کا نیوکلیئر پاور پلانٹ

اسی بارے میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے ہر حال میں روکا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع گیٹس نے یروشلم میں اپنے اسرائیلی ہم منصب ایہود باراک کے ساتھ پیر کے روز ہونے والی ملاقات میں انہیں تہران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھر پور امریکی تعاون کا یقین دلایا۔ رابرٹ گیٹس نے ایک طرف اگر ایران کے ساتھ سفارتی مکالمت کا ذکر کیا تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ایرانی ایٹمی پروگرام ایک ایسا تنازعہ ہے جس کے بارے میں امریکہ اپنے لئے تمام امکانات کھلے رکھے ہوئے ہے۔

Nahostbesuch Robert Gates und Ehud Barak

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اپنے اسرائیلی ہم منصب ایہود باراک کے ساتھ

دوسری طرف اس ملاقات میں ایہود باراک نے کہا کہ اسرائیل کو امریکہ کی ایران سے متعلق حکمت عملی پر کوئی اعتراض نہیں، مگر واشنگٹن کو تہران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں مزید سخت بنانے کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔

یروشلم میں اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رابرٹ گیٹس نے کہا:"ہماری ملاقات بہت اچھی رہی۔ اس ملاقات میں ہم نے ایرانی ایٹمی پروگرام کی وجہ سے خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے بھی بات کی۔ امریکہ اسرائیل کی عملی معاونت کرتے ہوئے، اسے سالانہ بنیادوں پر دفاعی امداد بھی دے گا۔"

اسرائیل ایرانی ایٹمی پروگرام کو اپنے لئے خطرہ تصور کرتا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما آئندہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے، ایران کو کسی بھی طور مذاکرات پر آمادہ کر لینے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں اس تنازعے کے فریق ایران کا موقف بہت واضح تو ہے، لیکن وہ امریکہ اور مغربی دنیا کے دعووں کے بالکل برعکس بھی ہے۔ تہران حکومت کا کہنا ہے کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات میں یورینیم کی افزودگی کا مقصد ایٹمی ہتھاروں کی تیاری نہیں بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع کی ترویج ہے۔

یروشلم میں آج رابرٹ گیٹس کے بیان سے قبل، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی کل اتوار کے روز ایک بار پھر یہ کہا تھا کہ ایران کو کسی بھی حالت میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خارجہ سیاست میں ایٹمی پروگرام کی وجہ سے تنازعہ ایک طرف، داخلی طور پر بھی ایرانی صدر احمدی نژاد کو ان دنوں کئی بڑے سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ حالیہ صدارتی انتخابات میں مبینہ بےقاعدگیوں کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد سے، حالات پوری طرح ابھی بھی حکومت کے قابو میں نہیں ہیں، اور صدر احمدی نژاد کی مشکلات بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ تہران سے ملنے والی رپورٹوں میں احمدی نژاد کی طرف سے کئی وزراء کی برطرفی کا ذکر کیا گیا ہے لیکن سرکاری طور پر صرف ایک ہی وزیر کی برطرفی کی تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ: میراجمال

ادارت: مقبول ملک

DW.COM