1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا ایٹمی پروگرام اور عالمی طاقتوں کی کوششیں

باراک اوباما کے امریکہ کے صدارتی منصب پر فائز ہونے کے بعد آج پہلی بار اقوام متحدہ کی پانچوں ویٹو پاورزاورجرمنی کے ترجمان ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں صلاح و مشورے کے لئے جرمن شہرویزباڈن میں ملاقات کررہے ہیں

default

ایران کا ایٹمی پروگرام ایک عرصے سے مبہم یا غیر واضح سمجھا جاتا ہے۔

ایران کا ایٹمی پروگرام ایک عرصے سے مبہم یا غیر واضح سمجھا جاتا ہے۔ تہران حکومت بارہا یہ یقین دلاتی رہی ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام سول مقاصد کے لئے ہے۔ دوسری جانب اس قسم کی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹم بم بنانے کی تیاریاں کررہا ہے۔ آج جرمن شہر ویزباڈن میں ایران کے ساتھ اس کے ایٹمی پروگرام کے باارے میں ہونے والے عالمی مذاکرات کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے جرمنی کے سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو ایک نئی اور مثبت پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جرمن پارلیمان میں فری ڈیمو کریٹک پارٹی اف ڈی پی کی بین الاقوامی امور کی نگراں الکے ہوف ویز باڈن مذاکرات کے ممکنہ زاویوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتی ہیں’’میرا خیال ہے کہ ویزباڈن اجلاس میں ایران پرمزید پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال ہوگا۔ لیکن ذاتی طور پرمیرا یہ ماننا ہے کہ ایران کے ایٹمی مقاصد کہ بارے میں کسی واضح نتیجے پر پہنچنے کے لئے یہ طرزعمل کارآمد ثابت نہیں ہوگا۔ ہمیں اس مسئلے پر بحث کا نئے سرے سے آغاز کرنا ہوگا۔‘‘

Iran Präsident Mahmud Ahmadinedschad zu Israel und Atom

ایرانی صدر احمدی نژاد

الکے ہوف کا کہنا ہے کہ ایران کو چاہئے کہ ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادائی کو ایران کی ماضی کی اور موجودہ تمام ایٹمی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرے اورایران کی یورنیم کی افزودگی کی کوششوں کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔ دوسری جانب نئے امریکی صدر کے ایماء پرایران سے متعلق پالیسی کی نئی حکمت عملی کے بارے میں جو بات چیت ہو رہی ہے اس کے تحت جلد ازجلد ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز کا رخ کیا جائے۔ فری ڈیموکریٹک پارٹی ایف ڈی پی کے لیڈر ہوف کے مطابق ایران ایٹمی تنازعہ جیسے عالمی اہمیت کے حامل مسئلے کا حل تنہا امریکہ پیش نہیں کرسکتا۔ جرمنی کو یورپ کے اقتصادی اور سیاسی طور پراہم ترین ملک کی حیثیت سے امریکہ کے سات مل کر عالمی تنازعات کے حل کے لئے سرگرم ہونا چاہئے۔

جرمنی ایران کے ایٹمی تنازعہ کے حل میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟

الکے ہوف کا کہنا ہے کہ سیاسی اور سفارتی سطح پر جرمنی کو ایک نئی حکمت عملی وضح کرنا ہوگی کیونکہ ایران کے ساتھ شیریں زبانی کے ساتھ ساتھ سختی کرنے کی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ایران پر یہ پالیسی اثر اندازنہیں ہو سکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام بین الاقوامی قوتیں مشترکہ طور پرایک مؤثر حکمت عملی کے تحت اشتراک عمل سے کام کریں۔ ’’بنیادی بات یہ ہے کہ ایران کا جوہری توانائی کی مدد سے مسلح ہونے کا عمل کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران کے سلامتی کے مفادات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہئے۔‘‘

Konferenz in Berlin zu Iran Atomprogramm

عالمی طاقتیں ایک عرصے سے ایران سے جوہری پروگرام کی بندش کا مطالبہ کر رہی ہیں

ادھرآج ویزباڈن میں منعقدہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات کے بارے میں ماحول پسند گرین پارٹی نے بھی ایک پریس ریلیزجاری کیا ہے۔ گرین پارٹی کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ یورگن ٹریٹین اورپارٹی کی خارجہ پالیسی کی ترجمان کیرسٹین میولرنے امید ظاہر کی ہے کہ ویزباڈن مذاکرات میں ویٹو پاورزیعنی امریکہ، چین، روس، فرانس اوربرطانیہ کے علاوہ یورپی یونین کے اہم ملک جرمنی کے مابین کوئی مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق ہوسکے گا۔ دونوں لیڈروں نے نئے امریکی صدرباراک اوباما کی ایران کے بارے میں نئی پالیسی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے حل کی راہ میں رکاوٹ بننے والے سخت گیرموقف میں لچک کا باعث بنے گی۔ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات ناگزیر ہیں جن کا دروازہ سابق امریکی صدرجارج بش نے بند کر رکھا تھا۔