1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا ایٹمی تنازعہ اور سلامتی کونسل میں نئی پیش قدمی

کل بُدھ کے روز فرانس اور برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا۔ اِس مسودے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اُس کی مذمت کی گئی ہے۔ اِس تنازعے میں امریکی حکومت آج کل کس پالیسی پر عمل پیرا ہے، اِس حوالے سے واشنگٹن سے Frank Aischmann کا بھیجا ہوا جائزہ

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد

اگر فرانس اور برطانیہ کی پیش کردہ قرارداد کو سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی منظوری حاصل ہو جائے تو یہ ایک باقاعدہ قانونی دستاویز کی شکل اختیار کر جائے گی کیونکہ اِس کی بنیاد اقوامِ متحدہ کے منشور کے باب نمبر سات پر رکھی گئی ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے امریکہ بار بار اِس طرح کی باقاعدہ قانونی حیثیت رکھنے والی قرارداد کا مطالبہ کرتا رہا ہے، یہ اور بات ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کہیں زیادہ واضح پابندیوں کا خواہاں ہے۔ ایک ایسے ایران کے لئے، جو ابھی مستقبل میں بھی کوئی ایٹم بم بنانے نہیں جا رہا، واشنگٹن حکومت کی پالیسیاں کس مرحلے میں ہیں، اِس کا اندازہ امریکی صدر کے ترجمان Scott McClellan کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر کے ترجمان کےمطابق وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کچھ اور سفارتی اقدامات کے ذریعے ایران کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے پر مجبور کرے۔ اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ سلامتی کونسل کے اراکین کے علاوہ جرمنی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ بھی مل کر سفارتی محاذ پر کسی پیشرفت کے لئے کوشاں ہے۔

امریکہ کی نظر میں اِس وقت ایران کے حوالے سے درست اقدام یہ ہو گا کہ اقومِ متحدہ کے منشور کے باب نمبر سات کے تحت ایک قرارداد منظور کی جائے، جس کی پاسداری ایران پر لازم ہو گی اور جس میں ایران کو ممکنہ طور پر پابندیوں اور طاقت کے استعمال کی بھی دھمکی دی گئی ہو گی۔ لیکن روس اور چین اِس طرح کی قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔

اِسی لئے واشنگٹن کے تحقیقی ادارے بروکلین انسٹی ٹیوٹ کے مائیکل او ہَینلَن کہتے ہیں، زیادہ حقیقت پسندانہ قدم یہ ہو گا کہ امریکہ اور مغربی یورپ مل کر چین اور روس پر دباﺅ ڈالیں۔ اِس کے نتیجے میں ایران کو کم از کم تھوڑی بہت پابندیوں کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا لیکن یہ تھوڑی سی پابندیاں ایران کو اپنا پروگرام ترک کرنے پر مجبور کرنے کے لئے کافی نہیں ہوں گی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران بدستور ایٹم بنانے کے راستے پر گامزن رہے گا۔

لیکن او ہینلَن کے خیال میں ایک راستہ اور بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں، موجودہ صورتحال میں محض امریکہ اور مغربی یورپ کی مشترکہ پیشقدمی ہی مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مغربی یورپ کے پاس ایک مَوزوں دھمکی ہے کہ وہ ایران کو تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ ایران کو یہ پیشکش کرے گا کہ اگر وہ بات مان لے تو امریکہ بھی اُس کے ساتھ پھر سے تجارتی تعلقات قائم کر لے گا۔ اِس طرح مل جُل کر ایران کو جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک ایران کے خلاف فوجی حملے کے امکان کا تعلق ہے، امریکہ میں رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ امریکی شہریوں کی زیادہ بڑی تعداد ایران کے ایٹمی تنازعے کو اقوامِ متحدہ کے ذریعے حل کئے جانے کی حامی ہے۔

واشنگٹن کے تحقیقی ادارے Cato انسٹی ٹیوٹ کے فوجی امور کے ماہر Ted Carpenter بھی ایران پر حملے سے سختی کے ساتھ خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں، فوجی حملہ بہت زیادہ تباہ کن ثابت ہو گا کیونکہ اِس طرح امریکہ پانچ سال کے اندر اندر تیسرے اسلامی ملک کو نشانہ بنائے گا اور یوں مراکش سے لے کر منیلا تک ہر مسلمان اِس سے یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ امریکہ اسلامی ثقافت اور مذہب کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔