1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران کا القاعدہ کے ساتھ خفیہ معاہدہ: امریکہ کا الزام

ایران کے خلاف الفاظ کی جنگ میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے امریکہ نے تہران حکومت پر القاعدہ کے ساتھ ایک ’خفیہ ڈیل‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

default

امریکہ اور اسرائیل ایران کو خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتےہیں

اس معاہدے کے تحت دہشت گرد تنظیم القاعدہ کوافغانستان اور پاکستان میں رقوم اورکارکنوں کی نقل و حمل کے لیے ایرانی سرزمین کے استعمال کی اجازت دی ہے۔

باراک اوباما کے دورِ صدارت میں پہلی بار امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف آن ریکارڈ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اُس نے دہشت گرد تنظیم کے ساتھ ایک خصوصی معاہدہ کیا ہے۔ امریکی حکومتی اہلکار نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ تہران القاعدہ کو براہ راست سپورٹ کر رہا ہے نہ ہی اُن ایرانی اہلکاروں کی طرح کسی اور ایرانی اہلکار پراقتصادی پابندی لگائی گئی ہے، جنہوں نے چھ رکنی القاعدہ نیٹ ورک کے ساتھ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مابین نقل و حمل کے لیے ایران کو اہم ترین ذریعہ بنانے کے بارے میں ڈیل کی تھی۔

Iran Machtkampf Ayatollah Ali Khamenei, Mahmud Ahmadinedschad und Mahmoud Hashemi Shahroudi

تہران حکومت پر غیر معمولی امریکی دباؤ

یہ امر تاہم واضح ہے کہ امریکہ کی طرف سے اس بیان کا مقصد کانگریس کے ریپبلکنز اور نیو کنزرویٹیوز کی طرف سے اوباما حکومت پر ایران کے خلاف سخت ترین ایکشن لینے کے سلسلے میں دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔

چند مبصرین کا کہنا ہے کہ اسی قسم کے الزامات صدام حسین کے خلاف بھی استعمال کیے گئے تھے۔ آٹھ سال قبل صدام حسین اور القاعدہ کے قریبی تعلقات کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات نے عراقی جنگ کے بارے میں عوامی رائے تبدیل کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق القاعدہ کے چھ رکنی گروپ پر اقتصادی پابندی لگائی گئی تھی۔ اس گروپ کے اراکین ایران، عراق، پاکستان، قطر، اور کویت میں آباد ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے عزیدین عبدلا لعزیز خلیل کی قیادت والا ایک نیٹ ورک قائم کیا تھا، جو القاعدہ کے سرمائے اورمعاون کاروں کو مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا پہنچانے میں اہم ترین کر دار ادا کر رہا ہے۔

Irak 9/11 Flash-Galerie

صدام حسین کے دور میں عراق حکومت پر بھی امریکہ کی طرف سے اسی قسم کے الزامات لگائے گئے تھے

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق خلیل ایک شامی باشندہ ہے، جو 2005ء سے ایران میں سرگرم عمل ہے۔ یہ خلیجی ممالک کے چندہ دینے والوں سے رقوم اکھٹا کرکے افغانستان اور عراق میں القاعدہ کے لیڈروں تک پہنچانے کے علاوہ، ایرانی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کی جیلوں میں بند القاعدہ کے کارکنوں کو رہائی دلوانے کی کوششیں کرتا ہے اور اس میں کامیاب ہونے پر ان القاعدہ اراکین کو پاکستان پہنچانے کا بندوبست کرتا ہے۔

امریکی وزرات خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلیجنس، David S.Cohan نے وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تحریر کیا ہے’ آج کے دور میں ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا دنیا کا سب سے اہم ملک ہے‘۔ انہوں نے مزید تحریر کیا ہے کہ ایران کی القاعدہ کے ساتھ خفیہ ڈیل کے بارے میں خبر منظر عام پر لا کر ہم نے تہران کی طرف سے دہشت گردی کو دی جانے والی لا ثانی سپورٹ کے ایک اور پہلو کو اجاگر کیا ہے۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / کشور مصطفیٰ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM