1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران پر مزید پابندیوں کی قرارداد پر اتفاق

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے ایران پر اُس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث مزید پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں نئے مسودہ قرارداد کے مواد اور موضوع پر اتفاق کرلیا ہے۔

default

وِفاقی جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر نے اس حوالے سے کہا کہ مزکورہ قرارداد آنے والے ہفتوں میں سلامتی کونسل کو پیش کی جائے گی۔جرمن وزیر خارجہ نے یہ اعلان سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ روس اور چین کے وزراءخارجہ کے ساتھ‘ جرمن دارالحکومت برلن میں ملاقات کے بعد کیا۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے‘ یعنی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی نئی قرارداد کے مسودے کے موضوع اور مواد پر اتفاق کرلیا ہے۔جرمنی‘ فرانس‘ اور برطانیہ اس مسودہ قرارداد کو سلامتی کونسل میں پیش کریں گے۔

عالمی طاقتوں‘ بالحضوص مغربی ممالک‘ کو شبہہ ہے کہ ایران رازداری کے ساتھ جوہری بم بنا رہا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

ابھی حال ہی میں امریکی خفیہ ادارے‘ سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ تہران نے سن دو ہزار تین میں ہی اپنے جوہری ہتھیار سازی کے پروگرام کو ترک کیا تھا۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسے اپنی جیت قرار دیا تھا۔تاہم امریکی صدر جارج بش نے اپنے حالیہ دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران تہران حکومت کے خلاف الفاظ کی جنگ چھیڑ دی تھی۔بش نے ایران کو دہشت گردوں کی حمایت اور معاونت کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک قرار دیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلے ہی دو مرتبہ ایران پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ماضی میں روس اور چین‘ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے حق میں نہیں رہے ہیں۔مسودہ قرارداد پر اتفاق کے بعد اب ایران پر اس کے جوہری پروگرام کے باعث مزید پابندیاں عائد ہونے کا قوی امکان ہے۔