1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران پر دباؤ کے لئے امریکہ کا نیا اقدام

امریکہ نے ایران کے انقلابی گارڈز سے وابستہ چار اداروں کے اثاثے منجمد کردیے ہیں جبکہ تہران حکومت کا مؤقف ہے کہ جوہری تنازعہ بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے۔

default

واشنگٹن انتظامیہ نے ایران کے انقلابی گارڈز سے وابستہ اداروں کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کرکے تہران پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔ اس اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے نئی ایران مخالف پابندیوں کی راہ ہموار کرنے کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ واشنگٹن میں محکمہ خزانہ کی جانب سے بدھ کو واضح کیا گیا کہ انقلابی گارڈز کے جنرل رستم قاسمی اور ان کے چار تعمیراتی اداروں کے اثاثے منجمد کئے گئے۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ہیں۔

Iranische Revolutionsgarden

انقلابی گارڈز سے وابستہ اداروں کو ایران میں عموماً مختلف بڑے منصوبوں کے ٹھیکے ترجیحی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں

نئ ایران مخالف پابندیوں کا سلسلہ

واشنگٹن حکام کے مطابق وہ تہران حکومت کے خلاف ایسی پابندیاں لگانا چاہتے ہیں، جن سے ایرانی شہری متاثر نہ ہوں، اسی لئے گارڈز کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انقلابی گارڈز سے وابستہ اداروں کو ایران میں عموماً مختلف بڑے منصوبوں کے ٹھیکے ترجیحی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں۔ ان میں جنوبی فارس میں دو ارب ڈالر کی لاگت سے گیس فیلڈ کا منصوبہ، تہران کو اصفہان سے ملانے والی ٹرین سروس شروع کرنے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے قابل ذکر ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما کے بقول حالیہ اقدام پابندیوں کے نئے سلسلے کا ایک حصہ ہے، جسے بین الاقوامی معاونت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایران پر بھی واضح ہو جائے گا کہ عالمی برادری میں وہ کتنا تنہا ہے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عالمی برادری پر ایران کے خلاف مزید سخت اور فوری پابندیاں لگانے کے لئے زور دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ، سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ نئی ایران مخالف پابندیوں کے معاملے پر مسلسل رابطے میں ہے۔ تاہم ایران کی جانب چین کا رویہ ابھی تک قدرے نرم ہے۔

Flash-Galerie Iran Natanz

تہران حکومت طبی تحقیقاتی مقاصد کے لئے یورینیم کی افزودگی کی سطح بیس فیصد تک بڑھانے کا عمل شروع کر چکی ہے

معاملے سے نمٹنے کے لئے ایرانی کوششیں

دوسری جانب اس حوالے سے ایران بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بدھ کو کہا کہ معاملہ اب بھی مذاکرات کی میز پر طے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران یورینیم سے جوہری ایندھن کا تبادلہ کرنے کو تیار ہے، تاہم یہ عمل ایران کی سرزمین پر ہونا چاہئے۔ مغربی ممالک البتہ چاہتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے ایران اپنی کم افزودہ یورینیم بیرون ملک بھیجے۔.

یاد رہے کہ تہران حکومت طبی تحقیقاتی مقاصد کے لئے یورینیم کی افزودگی کی سطح بیس فیصد تک بڑھانے کا عمل بھی شروع کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران اس قابل ہوجاتا ہے تو پھر ایٹم بم بنانا بڑی بات نہیں، کیونکہ اس کے لئے درکار ترانوے فیصد افزودہ یورینیم بنانے کا عمل بھی وہی ہے جو یورینیم کی بیس فیصد افزودگی کا ہے۔ تہران حکومت کا البتہ اسرار ہے کہ جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM