1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران پر حملے کا قوی امکان ہے، اسرائیلی صدر

اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے کہا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اسرائیل یا دیگر ممالک ایران پر حملہ کریں گے۔ ایران نے انتباہ کیا ہے کہ ایسے کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔

default

اسرائیلی صدر شمعون پیریز

ہفتہ کی شب ایک نجی اسرائیلی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے کہا کہ کئی ممالک کے خفیہ ادارے ایران کے جوہری پروگرام پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں،’ وہ پریشان ہیں اور اپنے اپنے رہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب ہوتا جا رہا ہے‘۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے صدر پیریز کے اس انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے تمام تجاویز زیر غور ہیں۔ اسرائیلی صدر کے بقول ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اب مذاکرات کے لیے وقت نہیں بچا ہے اور عسکری کارروائی ضروری ہو گئی ہے۔

بدھ کو اسرائیلی اخبار Haaretz نے کہا تھا کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع ایہود باراک نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور وہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کابینہ کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

اس اخبار کے مطابق اگرچہ ایران پر حملے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے تاہم بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی IAEA کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں آٹھ نومبر کو جاری کی جانے والی تازہ رپورٹ اس فیصلہ سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ْ

Iran Uranaufbereitungsanlage in Isfahan

اسرائیل اور مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے تحت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے

IAEA کے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کے تجربات کے لیے ایک بڑا فولادی کنٹینر تیار کیا ہے جبکہ اس نے ایک جوہری ہتھیار کی کمپیوٹر ماڈلنگ بھی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی تیاری میں مصروف ہے۔

اسرائیل اور مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے تحت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے تاہم تہران حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

اسرائیلی اخبار Haaretz میں شائع کیے گئے ایک سروے کے نتائج کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے حوالے سے اسرائیلی عوام منقسم ہیں۔ سروے کے مطابق 41 فیصد ایسے حملے کے حق میں ہیں جبکہ انتالیس فیصد اس کے خلاف۔ سروے میں شامل بیس فیصد شرکاء اس بارے میں دہری سوچ کا شکار ہیں۔

دوسری طرف ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی جوہری تنصیبات پر حملے کی صورت میں وہ اسرائیل کو سخت جواب دے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM