1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران پر حالیہ امریکی الزامات، ڈوئچے ویلے کا تبصرہ

امریکہ میں تعینات سعودی سفیر کے قتل کی مبینہ ایرانی سازش کو بے نقاب کرنے کے بعد امریکہ بین الاقوامی سطح پر ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کروانے کا خواہشمند ہے۔

default

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق کے خلاف اپنی جارحانہ جنگ کی بنیاد ایک جھوٹ پر رکھی تھی۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ عراق کے پاس ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار‘ ہیں اور حملے کے بعد یہ خبر دینے والے عراقی مخبر کو ایک عادی جھوٹا قرار دیا گیا۔

اب ایک مرتبہ پھر امریکی حکام کی طرف سے ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں‘ کی بات کی جا رہی ہے لیکن اس مرتبہ نشانہ ایران ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے ایران پر اسرائیلی اور سعودی سفارت خانوں پر بم حملے کرنے کے ایک مبینہ منصوبے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی ایجنٹ سعودی سفارت کار کو وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مشہور ریستوران میں ایک دھماکے کے ذریعے ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اب صدر باراک اوباما کا پیغام یہ ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور صدر محمود احمدی نژاد اس قدر جنونی تھے کہ وہ امریکہ کو تیل فراہم کرنے والے اور اُس سے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ملک کے نمائندے کو دارالحکومت میں قتل کرنا چاہتے تھے۔ یہ پیغام بھی اُتنا ہی خطرناک ہے، جتنا کہ صدر بش کی طرف سے عراق پر ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار‘ رکھنے کا الزام۔

Saudi-arabischer US-Botschafter Adel al-Jubeir

امریکہ میں تعینات سعودی سفیر عبدالجبیر

اگرچہ اوباما واضح طور پر اپنے پیشرو جارج ڈبلیو بش کی طرح جنگ شروع کرنے میں پہل کرنے والی شخصیت نہیں ہیں لیکن اُن کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر تہران حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے بہت دور کی چیزوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے امکانات بہت کم ہیں لیکن لفظوں کی جنگ تو اس کے خلاف لڑی ہی جا سکتی ہے۔ لفظوں کی یہ مسلح جنگ امریکہ کے لیے وہ واحد حربہ ہے، جسے وہ استعمال کر رہا ہے۔ الفاظ ہتھیار ہیں اور وہ الفاظ جو امریکی اٹارنی جنرل، وزیر خارجہ اور ایف بی آئی کے سربراہ نے ایران کے بارے میں کہے ہیں، تہران پر سیدھا حملہ ہیں۔

اس طرح کے زبانی حملے نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ نوبل امن انعام یافتہ صدر اوباما کو کرنے بھی نہیں چاہییں۔ کیونکہ حالیہ الزامات صرف ایک انڈر کور ایجنٹ کی معلومات پر مبنی ہیں۔ یہ انڈر کور ایجنٹ خود نشے کی لت میں مبتلا ہے اور اسے جیل سے اس وجہ سے فرار کروایا گیا تاکہ وہ جاسوسی کر سکے۔ امریکی حکومت برف کی بہت پتلی تہہ پر چل رہی ہے۔ اگر یہ مرکزی گواہ معتبر بھی ہے، تب بھی امریکی حکومت کو اس کی ہر بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ جارج بش کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے باراک اوباما کو ان کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔

تبصرہ: رالف زِینا، واشنگٹن

ترجمہ: امتیاز احمد، ادارت: امجد علی

DW.COM