1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران پر اضافی پابندیاں ایک اچھا قدم ہے، امریکہ

یورپی یونین اور کینیڈا کی جانب سے ایران کے خلاف اضافی پابندیاں عائد کئے جانے کا امریکہ اور اسرائیل نے خیر مقدم کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے رد عمل کے طور پر جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو ایک خط لکھا ہے۔

default

یورپی یونین اور کینیڈا کی جانب سے ایران پر اقوام متحدہ کی جانب سے پہلے سے عائد کردہ پابندیوں میں اضافے کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور وزیر مالیات ٹموتھی گائتھنر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ان پابندیوں سے باخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی براداری کو ایران کے جوہری پروگرام پر کس حد تک تشویش ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تہران حکومت کو چاہیےکہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آ جائے کیونکہ امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس تنازعے کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جائے۔ اسرائیلی حکومت نے اپنے ایک خیر مقدمی بیان میں کہا کہ دیگرممالک کو بھی یورپی یونین اور کینیڈا کی تقلید کرتے ہوئے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کےخلاف سخت اقدامات کرنے چاہیں۔

کینیڈا کی جانب سے عائد کی جانے والی اضافی پابندیوں میں ایران کے ساتھ اسلحہ کی تجارت، تیل اور گیس کی ریفائنریوں کے لئے آلات اور کسی بھی ایسی شے یا مادے کی فروخت کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے، جو کسی طرح بھی جوہری عمل میں کام آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تہران کے ساتھ تیل کا کاروبار کرنے پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔

Jahresrückblick März 2006 Iran Atom

مغربی طاقتوں کو شبہ ہے کہ ایران ایٹم بم حاصل کرنا چاہتا ہے

کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر نے کہا کہ اضافی پابندیاں ایران کے عوام پر عائد نہیں کی گئیں ہیں بلکہ اس کا مقصد تہران حکومت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں صرف ان شعبوں میں لاگو کی گئی ہیں، جن کا کسی طرح سے بھی جوہری عمل یا ایٹم بم کی تیاری سے تعلق ہو۔

برسلز میں یورپی یونین کی جانب سے منظور کی گئی پابندیوں میں ایران کی تیل اور گیس کی صنعت میں سرمایہ کاری شامل ہے اس کے علاوہ رکن ممالک میں آئندہ سے دس ہزار یورو سے زائد کی رقم ایران منتقل کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنا ہو گا جبکہ چالیس ہزار یورو سے زیادہ کی رقم کی ایران منتقلی کے لئے باقاعدہ منظوری لینا پڑے گی۔

ایران نے کینیڈا اور یورپی یونین کی جانب سے ان اضافی پابندیوں کے جواب میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے ’ آئی اے ای اے‘ کو ایک خط لکھا ہے۔ خط کے متن کے بارے میں تو کچھ نہیں بتایا گیا ہے تاہم ’ آئی اے ای اے‘ نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے بتایا ہے کہ ایران حکومت کی جانب سے ملنے والے اس خط کو فرانس، روس، امریکہ ، برازیل اور ترکی کی حکومتوں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔ ویانا میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری ایندھن کے تبادلےپر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر مشروط رضامندی ظاہر کی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس