1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران پاکستان پائپ لائن اب بھی تکمیل کے قریب نہیں

ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ ایک بار پھر پاکستان میں زیرِ بحث ہے اور آج پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اس پراجیکٹ کے حوالے سے سوال و جواب کیے گئے ہیں۔

حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ بروقت مکمل نہ ہونے پر پاکستان کو جرمانہ ادا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ تاخیر ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے ہوئی۔ اس پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے بینکنگ چینلز ضروری ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

اس پراجیکٹ پر بات چیت نوّے کی دہائی میں شروع ہوئی تھی، بعد ازاں افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے یہ معاملہ سردخانے میں ڈال دیا گیا۔ ایران پر پابندیاں لگنے کی وجہ سے بھی اس معاملے نے طوالت پکڑی لیکن اب کئی ماہرین حیران ہیں کہ ایران پر سے بیشتر پابندیاں اٹھنے کے باوجود بھی یہ پراجیکٹ مکمل کیوں نہیں ہو رہا۔

تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کی بنیاد رکھ دی گئی

پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن معاہدہ طے

تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ ابھی زندہ ہے

توانائی کے ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس مسئلے کو صرف سیاسی عوامل کی وجہ سے طول دیا جا رہا ہے۔ اس ماہر توانائی نے ڈی ڈبلیو کو مزید بتایا، ’’پاکستان کا موجودہ مالیاتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں سعودی عرب کے پاس مالیاتی امداد کے لیے جانا پڑے گا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے پچھلے دورہ سعودی عرب میں سعودی حکومت سے deferred payment پر تیل کی فراہمی کی گزارش کر دی ہے اور اگر ہمیں سعودی مالی مدد چاہیے تو ہم ایسا کوئی کام نہیں کریں گے ، جس سے وہ ناراض ہو۔ ‘‘

سینیٹر میر کبیراحمد نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے، ’’پاکستان بین الاقوامی برادی کے کچھ ممالک کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اور یہ عمل نہ صرف ایران پاکستان پائپ لائن کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ایران کے ساتھ ہونے والے کچھ اور معاہدے بھی اس کی زد میں آرہے ہیں اور ہم ان پر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

کبیر احمد نے مزید کہا، ’’ایران کے ساتھ سو میگا واٹ بجلی کا معاہدہ ہوا تھا اور وہ مکران کو بجلی فراہم کر رہا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں جب اس معاہدے کی معیاد پوری ہوئی تو اس میں بہت زیادہ توسیع نہیں کی گئی۔ ایک اور معاہدہ تین سو میگا واٹس کا ہے، جس کے لیے ایران نے پسنی کے قریب تک بجلی کے کھمبے بھی لگا دیے تھے لیکن ہم نے اس پر بھی تاخیری حربوں سے کام لیا اور یہ بھی مکمل نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم پابندیوں کا بہانہ کر کے ایران کو کپاس اور چاول کی شکل میں ادائیگی کر رہے ہیں اور وہ پھر بھی ہم سے تعاون کرنا چاہتا ہے لیکن ہماری طرف سے کوئی گرم جوشی نہیں ہے۔‘‘


کبیر احمد کا یہ بھی کہنا تھا، ’’ایران پاکستان پائپ لائن خطے کے ممالک میں تعاون کو فروغ دے سکتی ہے اور ہمارے مستقبل کو محفوظ کر سکتی ہے،ہمارے گیس کے ذخائر تیزی سے ختم ہور ہے ہیں۔ جس طرح ہم نے ماضی میں لوڈ شیڈنگ سے نمٹنے کی تیاری نہیں کی تھی اور اس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح آج ایران پاکستان پائپ لائن کا پراجیکٹ اگر ہم نے مکمل نہیں کیا تو کل ہم گیس کے بھی بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائیں گے۔‘‘

ماہرین کے خیال میں یہ پراجیکٹ ایل این جی اور تاپی سمیت کئی دوسرے معاہدوں سے مالی طور پر بہت فائدے مند ہے۔ ماہرِ توانائی ڈاکڑ وقار احمد نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مالی اعتبار سے یہ پراجیکٹ دوسرے کئی پراجیکٹوں سے بہتر ہے۔ آپ دیکھیں کہ ایل این جی سے آپ کی ٹرانسپورٹیشن کی قیمت کتنی بڑھ جاتی ہے۔ اب ہم ملائیشیا سے ایل این جی درآمد کرنے کی باتیں کر رہے۔ اس میں بھی ہمیں ٹرانسپورٹیشن جارچز آئی پی کے مقابلے میں بہت زیادہ دینے پڑیں گے۔‘‘

وقار احمد کا کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ کی وجہ سے پاکستان خطے میں ’انرجی حب‘ بن سکتا ہے، ’’مغربی چین کی توانائی کی مانگ میں آنے والے وقتوں میں اضافہ ہوگا۔ بھارت کو انرجی کی اشد ضرورت ہو گی۔ روس ایک ایرانی پائپ لائن بھارت لے کر جانا چاہتا ہے اور اس میں وہ پاکستان کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان خطے میں انرجی حب بن جائے گا۔ جس سے یقینہ طور پر ملکی معیشت کو بہت فائدہ ہو گا۔‘‘
دوسری طرف ماہرین کا ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اس بات کو رد کرتا ہے کہ پاکستان پر کوئی دباؤ ہے۔ سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان پر سعودی عرب کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ایران پر اب بھی کچھ پابندیاں ہیں اور ایران نے اپنی طرف بھی کوئی کام نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف امریکا کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ہیں، جو اب بھی قابلِ اطلاق ہیں۔ اس میں کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘

DW.COM