1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران پاکستان سرحد پر باغیوں سے جھڑپ، چار ایرانی فوجی ہلاک

ایرانی میڈیا کے مطابق پاک ایران سرحد پر باغیوں کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ میں ایران کے چار سرحدی محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔ باغیوں کا تعلق جیش العدل نامی تنظیم سے بتایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی تہران سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ ایرانی صوبے سیستان اور پاکستان کے صوبہٴ بلوچستان کے مابین سرحد پر راسک نامی علاقے میں پیش آیا۔ ایران کے مقامی میڈیا اور سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹوں کے مطابق ان جھڑپوں میں ایران کے چار سرحدی محافظ ہلاک ہو گئے ہیں تاہم ان جھڑپوں کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

گزشتہ مہینے بھی ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا تھا کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع خاش نامی ایرانی علاقے میں جیش العدل نامی دہشت گرد گروہ اور ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس واقعے میں جیش العدل کے پانچ شدت پسند مارے گئے تھے جب کہ ایک ایرانی پولیس آفیسر بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

ایران کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان اور ایران کے صوبے سیستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں جیش العدل ملوث ہے۔ تہران حکومت یہ الزام بھی لگاتی ہے کہ اس جہادی تنظیم نے القاعدہ سے الحاق کر رکھا ہے، جس کے سیل مبینہ طور پر پاکستان میں موجود ہیں۔

علاوہ ازیں پاک افغان سرحد پر منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ افراد بھی سرگرم ہیں، جن کی ایرانی سرحدی محافظوں کے ساتھ وقتاﹰ فوقتاﹰ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

ایران کی نوّے فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں کی ہے تاہم ملک میں سنی مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ سنی مسلمانوں کی زیادہ تر تعداد سیستان بلوچستان کے علاقے کے علاوہ ایران کے شمال مشرقی صوبے کردستان میں آباد ہے۔

حالیہ عرصے کے دوران کردستان کے علاقے میں بھی شدت پسندوں اور ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کے مابین خونریز جھڑپیں دیکھی گئی ہیں۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق رواں برس جون کے وسط میں ہونے والی ایسی ہی جھڑپوں کے دوران 33 باغی اور ایرانی سکیورٹی اداروں کے چھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

DW.COM