1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران ’ٹکراؤ کے راستے‘ پر ہے، امریکی سینیٹر کی تنبیہ

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممتاز امریکی سینیٹر ڈائیان فائن سٹائن نے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں میں تیزی اور امریکہ میں سعودی سفیر کے قتل کی مبینہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے ’ٹکراؤ کے راستے‘ پر ہے۔

default

ڈائیان فائن سٹائن نے، جو امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سربراہ بھی ہیں، کہا کہ یہ ایران کے ساتھ جنگ کا وقت تو نہیں تاہم سخت بین الاقوامی پابندیاں لگا کر تہران حکومت کے رویے میں تبدیلی کی ضرورت بہرحال موجود ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کے ایک پروگرام کے لیے اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے مرکزی بینک کے خلاف سخت ترین پابندیوں کی حمایت کرتی ہیں۔ ’’ایران اپنی جوہری سرگرمیوں میں تیزی لا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایران مخالفانہ رویے پر تلا ہوا ہے اور یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر گزشتہ کچھ برسوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے، تو واضح ہو گا کہ ہم ’ٹکراؤ‘ کے راستے پر ہیں۔ ’’اگر ہم اس سے بچنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘

Saudi-arabischer US-Botschafter Adel al-Jubeir

امریکہ میں متعین سعودی سفیر

فائن سٹائن نے کہا کہ ابتدا میں انہیں بھی ان اطلاعات پر شک تھا کہ ایران کی القدس فورس منشیات کے میکسیکن سمگلروں کا سہارا لے کر امریکہ میں سعودی سفیر کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہو سکتی ہے، تاہم شواہد کا بغور جائزہ لینے کے بعد ان کے یہ شکوک دور ہو چکے ہیں۔

ان کا اشارہ گرفتار کیے جانے والے اس ایرانی نژاد امریکی شہری کے اعتراف جرم کی جانب تھا، جس میں اس نے قبول کیا تھا کہ اس نے ایک امریکی ریستوراں پر کار بم حملے کے ذریعے سعودی سفیر کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

فائن سٹائن نے کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ القدس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو اس منصوبے کا علم تھا۔ تاہم فائن سٹائن نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ آیا ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو بھی اس منصوبے سے متعلق معلومات تھیں یا نہیں۔

فائن سٹائن کے مطابق، ’تہران حکومت ملک میں اور اپنے آس پاس کے ممالک میں ایسی کارروائیاں کرتی آئی ہے، تاہم دنیا کے ایک دوسرے حصے میں ایسے حملے کی کوشش یقیناﹰ اشتعال انگیزی ہے، جس پر ہمیں تشویش ہے اور میرے خیال میں اس پر سعودی حکومت کو بھی تشویش ہو گی۔‘‘

جب فائن سٹائن سے یہ پوچھا گیا کہ آیا امریکہ ایران کے اندر القدس فورس کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا، ’یہ غالبا ایک جنگ کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے اور سوال یہ ہے کہ آیا ہم اس وقت ایران کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں؟ میرا جواب ہو گا، نہیں۔‘‘

فائن سٹائن نے واضح الفاظ میں کہا، ’ہم عراق اور افغانستان میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات مسائل کا شکار ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہمارے ملک کو ایک نئی جنگ میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM