1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران نے فرانس کی ’متوازن‘ پوزیشن کو غلط سمجھا ہے، ماکروں

فرانسیسی صدرر ایمانوئل ماکروں نے کہا ہے کہ ایران نے خطے کے حوالے سے فرانس کی ’’متوازن‘‘ پوزیشن کو غلط سمجھا ہے۔ ماکروں نے یہ بات سعودی عرب، ایران اور لبنان کے حوالے سے فرانس کے حالیہ سفارتی اقدامات کے حوالے سے کہی ہے۔

default

ایمانوئل ماکروں

سویڈن کے شہر گوٹن برگ میں گفتگو کرتے ہوئے ماکروں کا کہنا تھا کہ فرانس کی پالیسی شیعہ اور سنیوں میں سے کسی کی سائیڈ نہ لینا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران کو چاہیے کہ وہ اس خطے میں جارحانہ رویے میں کمی لانی چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گوٹن برگ میں گفتگو کرتے ہوئے ماکروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہیے ہیں ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کے تناظر میں اپنی اسٹریٹیجی کو واضح کرے۔

فرانسیسی صدر کے مطابق وہ سعد الحریری کو ہفتہ 18 نومبر کو پیرس میں بطور لبنانی وزیر اعظم خوش آمدید کہیں گے اور وہ توقع کرتے ہیں کہ حریری آئندہ دنوں یا ہفتوں کے دوران واپس بیروت لوٹ جائیں گے۔

قبل ازیں آج جمعہ 17 نومبر کو ایران نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق فرانسیسی پالیسی جانبدارانہ ہے اور یہ علاقائی تنازعے کو ہوا دے رہی ہے۔ ایرانی حکومت کا یہ بیان فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایو لیدریاں کے اُس بیان کے نتیجے میں سامنے آیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران خطے میں بالادستی قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔

تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی پالیسی سے ممکنہ بحران بھی اب حقیقت میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا بیان سعودی عرب کے دورے کے دوران سامنے آیا تھا۔ لیدریاں سعودی عرب میں قیام کے دوران لبنانی بحران کو حل کرنے کی کوشش میں تھے۔

Libanons Premierminister Saad Hariri in Rom

ریاض میں موجود سابق لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری آج جمعے کے دن فرانس روانہ ہو رہے ہیں

اُدھر ریاض میں موجود سابق لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری آج جمعے کے دن فرانس روانہ ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود الحریری نے چار نومبر کو اچانک استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد ایسی خبریں بھی عام ہوئیں کہ ریاض حکومت نے انہیں قید کر لیا ہے۔ وزرات عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہوتے ہوئے حریری نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران اور لبنانی جنگجو گروہ حزب اللہ لبنان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوشش میں ہیں۔ اس پیشرفت سے علاقائی سطح پر ایک نئی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ پیرس کی کوشش ہے کہ لبنان میں امن قائم رہے، اسی لیے انہیں فرانس آنے کی دعوت دی گئی تھی۔