1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران نے روسی میزائل نظام نصب کر دیا

ایران نے روس کی طرف سے فراہم کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل دفاعی نظام S-300 کو یورینیئم افزودگی کے اپنی زیر زمین جوہری تنصیب فوردو کے ارد گرد نصب کر دیا ہے۔

ایران کے ریاستی ٹیلی وژن نے اتوار 28 اگست کو ایران کے وسطی حصے میں قائم اس جوہری تنصیب کے قریب اس میزائل نظام کی تنصیب کی فوٹیج نشر کی تھی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ میزائل نظام حال ہی میں روس کی جانب سے ایران کو فراہم کیا گیا تھا۔

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کی ایئر ڈیفنس فورس (IRGC) کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل فرزاد اسماعیلی نے ایرانی ٹیلی وژن کو اس میزائل نظام کی تنصیب کے حوالے سے بتایا، ’’ہماری اولین ترجیح کسی بھی ممکنہ صورتحال میں اپنی جوہری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔‘‘

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدے 2015ء میں ہوا تھا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کمی لانی تھی اور اس کے جواب میں اس پر لگی بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جانا تھیں۔

روئٹرز کے مطابق رواں برس جنوری میں جوہری معاہدے کے لاگو ہونے کے بعد تہران سے قریب 100 کلومیٹر جنوب میں واقع فوردو کی جوہری تنصیب پر یورینیئم کی افزودگی کا عمل روک دیا گیا تھا۔

ایس 300 دفاعی نظام ہے نہ کہ حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا، آیت اللہ علی خامنہ ای

ایس 300 دفاعی نظام ہے نہ کہ حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا، آیت اللہ علی خامنہ ای

مغربی ممالک کے دباؤ کے بعد روس نے ایران کو S-300 میزائل دفاعی نظام دینے کا معاہدہ 2010ء میں معطل کر دیا تھا۔ تاہم ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یہ خودساختہ پابندی اپریل 2015ء میں ختم کر دی تھی۔ اگست 2015ء میں ایران نے اعلان کیا تھا کہ روس نے اسے اس نظام کے مرکزی حصے فراہم کر دیے ہیں، ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ میزائل نظام کی مکمل فراہمی 2016ء کے آخر تک کی جائے گی۔

IRGC کے سربراہ اسماعیلی نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ یہ نظام آپریشنل ہوا ہے یا نہیں تاہم ان کا یہ کہنا تھا، ’’آج ایرانی فضائیں مشرق وُسطیٰ کے محفوظ ترین فضاؤں میں سے ایک ہے۔‘‘

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ملک کی فوجی قوت دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں اُن کا کہنا تھا، ’’ایس 300 دفاعی نظام ہے نہ کہ حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا۔ مگر امریکا کی طرف سے بھرپور کوشش کی گئی کہ ایران یہ نظام حاصل نہ کر سکے۔‘‘